رسائی کے لنکس

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ ٹیم کے سب سے زیادہ تجربہ کار بیٹسمینوں اظہر علی اور اسد شفیق کیلئے انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کا انتظام کیا جا رہا ہے تاکہ اُنہیں مسلسل اعلیٰ درجے کی کرکٹ کھیلنے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

سابق کپتان مصبح الحق اور بیٹسمین یونس خان کی رٹائرمنٹ کے بعد پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ کیلئے بنیادی ذمہ داری ان دونوں بلے بازوں پر آ گئی ہے۔ اسد شفیق کو موجودہ ٹیم میں ٹکنکی طور پر سب سے اچھا بیٹسمین تصور کیا جاتا ہے اور اُنہوں نے آئرلینڈ کے خلاف واحد ٹیسٹ اور بعد میں انگلستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں میں تین نصف سنچریاں سکور کی ہیں۔ لیکن اُن سے مزید بہتر کارکردگی کی توقع تھی جو حالیہ سیریز میں پوری نہیں ہوئی۔ خاص طور پر اظہر علی ان تینوں ٹیسٹ میچوں میں بری طرح ناکام رہے اور ان کی اوسط محض 12 رہی۔

جب یونس خان اور مصبح کریز پر اکٹھے موجود ہوتے تھے تو اکثر اوقات وہ صحیح معنوں میں ٹیم بیٹنگ کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے تھے۔ اس دوران ان دونوں عظیم کھلاڑیوں نے اظہرعلی اور اسد شفیق کی بھی بھرپور طریقے سے راہنمائی کی تاکہ اُن کے بعد وہ ٹیم کیلئے اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا سکیں۔

کوچ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ ان دونوں بیٹسمینوں کی غیر تسلی بخش کارکردگی کی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ سال اکتوبر کے بعد سے اُنہیں اعلیٰ سطح کی زیادہ کرکٹ کھیلنے کا موقع نہیں ملا ہے۔ لہذا کوشش کی جا رہی ہے کہ اُن کیلئے کاؤنٹی کرکٹ میں یہ سیزن کھیلنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ اس سلسلے میں اظہر علی کیلئے سومرسیٹ کاؤنٹی اور اسد شفیق کیلئے سرے کاؤنٹی سے معاہدے کیلئے بات کی جا رہی ہے اور توقع ہے کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ ایک دو روز میں کر لیا جائے گا۔

اگر دونوں کاؤنٹیوں سے بات چیت کامیاب ہو جاتی ہے تو اظہر علی میٹ رینشو کی جگہ سومر سیٹ میں یہ سیزن کھیلیں گے جبکہ اسد شفیق وراٹ کوہلی کی جگہ سرے کاؤنٹی میں شامل ہوں گے۔ مکی آرتھر کا کہنا ہے کہ دونوں کاؤنٹیوں نے ان پاکستانی بیٹسمینوں کیلئے کسی قدر دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد
پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد

مکی آرتھر کہتے ہیں کہ وہ ان دونوں کی کارکردگی کو اچھی طرح جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ اُنہیں ٹیم کیلئے کیا کردار ادا کرنا ہے۔ تاہم مکی آرتھر کو کپتان سرفراز احمد کی بیٹنگ میں کارکردگی کے بارے میں خاص طور پر تشویش ہے۔ گذشتہ 8 ٹیسٹ میچوں میں اُن کی بیٹنگ اوسط 22.78 رہی جو انتہائی مایوس کن ہے۔ تاہم وہ ایک اچھے بیٹسمین ہیں اور توقع ہے کہ وہ جلد ہی اپنی فارم کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اُن کا کہنا ہے کہ وکٹ کیپنگ میں اُن کی کارکردگی آئر لینڈ کے خلاف میچ میں زیادہ اچھی نہیں رہی۔ تاہم انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے دونوں ٹیسٹ میچوں میں اُنہوں نے بہترین وکٹ کیپنگ کا مظاہرہ کیا۔ مکی آرتھر کہتے ہیں کہ سرفراز کو نمبر 6 پر بیٹنگ ، وکٹ کیپنگ اور کپتانی تینوں میں توازن پیدا کرنا ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG