رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کی زیر قیادت اتحاد کے ’داعش‘ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے


امریکہ کی زیر قیادت اتحاد نے 24 گھنٹوں میں شام اور عراق میں شدت پسند گروم ’داعش‘ کے ٹھکانوں کے خلاف تقریباً 40 فضائی کارروائیاں کی ہیں۔

امریکہ کی زیر قیادت اتحاد نے 24 گھنٹوں میں شام اور عراق میں شدت پسند گروم ’داعش‘ کے ٹھکانوں کے خلاف تقریباً 40 فضائی کارروائیاں کی ہیں۔

یہ کارروائیاں ہفتے اور اتوار کے درمیان کی گئی اور ان میں سے نصف ’داعش‘ کے نام نہاد دارالحکومت رقہ کے ارد گرد کی گئیں۔

امریکہ کی زیر قیادت ہونے والے آپریشن "انہیرنٹ ریزالو" کے ترجمان نے کہا کہ 39 میں سے 18 فضائی کارروائیوں میں رقہ کے صوبے میں گاڑیوں اور پلوں کو تباہ کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’یہ شام میں کی گئی بڑی کارروائیوں میں سے ایک ارادی کارروائی تھی۔۔۔‘‘

ترجمان نے کہا کہ ’’یہ (اتحاد) داعش کی شام اور عراق بھر میں اپنی فوجی اہلیت کو منتقل کرنے کی صلاحیت کو ختم کر دے گا۔‘‘

عسکریت پسندوں کی ایک ویب سائیٹ کے مطابق رقہ میں ہونے والی فضائی کارروائیوں میں کم ازکم 10 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ ان فضائی کارروائیوں میں شام اور عراق کے مختلف علاقوں میں داعش کے جنگجوؤں، تعمیرات اور سازوسامان کو نشانہ بنایا گیا۔

اس سے قبل امریکہ کی زیر قیادت اتحاد کی طرف سے مشرقی شام میں ہفتہ اور اتوار کو کی گئی فضائی کارروائیوں میں داعش کے کم ازکم 23 عسکریت پسند کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئی تھیں۔

اتحاد کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ رقہ میں داعش کی تنصیبات اور آمد و رفت کے لیے استعمال کیے جانے والے راستوں کو نشانہ بنایا۔

ترجمان لیفٹیننٹ کرنل تھامس گلیرن نے کہا کہ ان اہم فضائی کارروائیوں کا مقصد عسکریت پسندوں کی شام اور عراق میں عسکری نقل و حمل کی صلاحیت کو متاثر کرنا تھا۔

ان کارروائیوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد شام میں انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی تنظیم "سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس" کی طرف سے بتائی گئی۔

شمالی شام میں ہونے والے لڑائی پر ہمسایہ ملک ترکی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسے خطرہ ہوا تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔

دریں اثناء ترکی کے ایک اخبار "حریت" نے خبر دی ہے کہ ترک فوج شام کی سرحد سے مداخلت کرنے پر غور کر رہی ہے۔

انقرہ نے گزشتہ ہفتے سرحد پر فوجی، ٹینک اور طیارہ شکن میزائل تعینات کیے تھے۔

ترک رہنما بشمول وزیراعظم داود احمد اغلو تواتر سے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر چکے ہیں کہ ترکی فوی طور پر شام میں مداخلت کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG