رسائی کے لنکس

logo-print

اقتصادی راہداری منصوبوں پر کام کرنے والوں کا تحفظ کیا جائے گا: جنرل راحیل


جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ اقتصادی راہداری اور دیگر منصوبوں کی تکمیل براہ راست صوبے کے امن و امان سے منسلک ہے اور ان کے بقول مسلح افواج یہاں حالات کو معمول پر لانے میں مدد کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گی۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بلوچستان خصوصاً مکران ڈویژن میں امن و مان کی بہتر ہوتی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ یہاں مختلف منصوبوں بشمول چین۔پاکستان اقتصادی راہداری پر کام کرنے والوں خاص طور پر چینی باشندوں کے تحفظ کے اقدام کو مزید سخت کریں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے تربت اور گوادر کے دورے کے دوران فوج کے انجینیئروں کی طرف سے مختلف منصوبوں پر کام کا جائزہ لیا۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری سے منسلک مختلف زیر تکمیل منصوبوں اور گوادر بندرگاہ کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے جنرل راحیل کا کہنا تھا کہ سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر گوادر کو مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ شہر بنانے کے لیے اقدام کیے گئے۔ ان کے بقول ان منصوبوں سے پاکستان اور خصوصاً بلوچستان کے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی آئے گی اور یہ خطے کی خوشحالی کا باعث بنیں گے۔

46 ارب ڈالر کی لاگت سے اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت چین کے شہر کاشغر سے پاکستان کے ساحلی شہر گوادر تک مواصلات، بنیادی ڈھانچے اور صنعتوں کا جال بچھایا جانا ہے اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اس منصوبے کو ہر صورت پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عزم ظاہر کر چکی ہے۔

بعض قوم پرست جماعتوں کی طرف سے اقتصادی راہداری منصوبے کے مشرقی حصے کو ترجیح دے کر پنجاب کو زیادہ فائدہ پہنچانے کا الزام عائد کیا جاتا رہا لیکن گزشتہ ہفتے ہی ان قوم پرست رہنماؤں کے ہمراہ وزیراعظم نواز شریف نے مغربی روٹ پر جاری منصوبوں کے تحت اہم شاہراہوں کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اقتصادی راہداری کے منصوبے سے پورے ملک کو یکساں فائدہ پہنچے گا۔

منصوبہ بندی اور ترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے ہفتہ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں ماضی کی نسبت امن و امان اور اقتصادی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور اس پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو دیگر لوگوں کی حمایت درکار ہے۔

بلوچستان کو ایک دہائی سے زائد عرصے سے شورش پسندی کا سامنا رہا ہے اور یہاں مختلف کالعدم عسکریت اور علیحدگی پسند تنظیمیں تشدد پر مبنی کارروائیاں کرتی رہی ہیں جن میں مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے کارکنوں، سکیورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات اور دیگر صوبوں سے آکر آباد ہونے والے شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

تاہم سکیورٹی فورسز نے ان عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں جب کہ ہتھیار پھینک کر ریاست کی عملداری کو تسلیم کرنے والوں کے لیے عام معافی اور مالی مراعات کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔

جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ اقتصادی راہداری اور دیگر منصوبوں کی تکمیل براہ راست صوبے کے امن و امان سے منسلک ہے اور ان کے بقول مسلح افواج یہاں حالات کو معمول پر لانے میں مدد کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گی۔

XS
SM
MD
LG