رسائی کے لنکس

logo-print

کولمبیا: حکومت اور باغیوں میں نئے امن سمجھوتے پر اتفاق


یہ پیش رفت اس ریفرنڈم کے چھ ہفتے کے بعد سامنے آئی جس میں پہلے طے کیے جانے والے معاہدے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا گیا تھا کہ یہ باغیوں کے لیے نرم شرائط پر مبنی ہے۔

کولمیبا کی حکومت اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے باغیوں نے ہفتے کو کہا کہ انہوں نے ملک میں 52 سالہ خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ایک نئے امن سمجھوتے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ پیش رفت اس ریفرنڈم کے چھ ہفتے کے بعد سامنے آئی جس میں پہلے طے کیے جانے والے معاہدے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا گیا تھا کہ یہ باغیوں کے لیے نرم شرائط پر مبنی ہے۔

حکومت اور ریوولوشنزی آرمڈ فورسز آف کولمبیا 'فارک' جو ہوانا میں گزشتہ چار سالوں سے بات چیت کررہے ہیں، نے کہا کہ انہوں نے نئے سمجھوتے میں کولمبیا کے معاشرے کے مختلف حلقوں کی تجاویز کو شامل کیا ہے۔

دونوں فریقین نے ایک بیان میں کہا کہ "ہم ایک مسلح تنازع کو ختم کرنے کے لیے ایک حتمی سمجھوتے پر پہنچ گئے ہیں جس میں (کولمبیا کے) معاشرے کے مختلف طبقہ ہائے فکر کی تجاویز کو اس میں شامل کیا گیا ہے۔"

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "ہم کولمبیا اور تمام بین الاقوامی برادری سے کہتے ہیں ۔۔۔۔ کہ وہ اس سمجھوتے اور اس پر فوری عمل درآمد کی حمایت کریں تاکہ جنگ کے سانحے کو ماضی سمجھتے ہو ئے چھوڑ دیا جائے۔ امن کے لیے اور زیادہ انتظار نہیں کیا جا سکتا ہے۔"

تاہم سابق صدر الوارو اروبے جو پہلے طے پانے والے معاہدے کی مخالفت میں پیش پیش تھے، نے کہا کہ نئے معاہدے پر عمل درآمد سے وہ چاہتے ہیں کہ ان کے گروپ اور خانہ جنگی کا نشانہ بنے والوں کو تھوڑی دیر کے لیے اس نئے معاہدے کا مطالعہ کرنے کو موقع دیا جائے۔

انہوں نے ٹوئیٹر بیان میں کہا ہے کہ "میں نے صدر سے کہا کہ ( سمجھوتے) کے جس مسودہ کا انہوں نے ہوانا میں اعلان کیا ہے وہ حتمی نہیں ہونا چاہیے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا گروپ اس میں مزید تھوڑی بہت تبدیلی کرنا چاہے گا۔

پانچ دہائیوں تک جاری رہنے والے اس تنازع میں ہزاروں لوگ ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا صدر سانتوس اس سمجھوتے پر دوبارہ ریفرنڈم کروائیں گے یا نہیں۔

XS
SM
MD
LG