رسائی کے لنکس

مصری فوج کے بڑھتے ہوئے کاروبار سے نجی شعبہ شدید دباؤ میں


ملٹری کے تحت کام کرنے والی ہیلوان کمپنی کچن اپلائنسز بناتی ہے

پاکستان ہی واحد ملک نہیں ہے جس میں مسلح افواج اپنے اصل کام کے علاوہ چھوٹے بڑے کاروبار میں بھی چلا رہی ہے۔ مصر کی مسلح افواج بھی مختلف طرح کے کاروباروں میں ملوث ہے۔

کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک میں 50 مختلف طرح کے کاروبار خود چلا رہی ہے جن میں چینی، کھاد، اور سیمنٹ کے کارخانے، جائداد کی خریدوفروخت، گوشت، بینکنگ، انشورنس غرض ہر طرح کے کاروبار شامل ہیں۔

تاہم اس حوالے سے پاکستان ہی واحد ملک نہیں ہے جس میں مسلح افواج اپنے اصل کام کے علاوہ چھوٹے بڑے کاروبار میں بھی چلا رہی ہے۔ مصر کی مسلح افواج بھی مختلف طرح کے کاروباروں میں ملوث ہے۔

خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق مصر کی مسلح افواج کے سابق جنرل اور اب ملک صدر عبدالفتح السیسی کی صدارت کے دوران فوج کی ملکیت والی کاروباری کمپنیاں طاقتور ہوتی گئیں۔

ایسی ایک کلیدی کاروباری کمپنی مادی کارپوریشن ہے جو مصر کی وزارت برائے دفاعی پیداوار کی ملکیت ہے۔ یہ کمپنی 1954 میں قائم ہوئی تھی جو اُس وقت گرنیڈ لانچر، پستول اور مشین گن بناتی تھی۔ تاہم حالیہ برسوں میں یہ کمپنی گرین ہاؤس، طبی آلات، پاور ٹولز اور جم کا سازوسامان تیار کر رہی ہے۔

مصری فوج کے ایک ریٹائرڈ اعلیٰ افسر عبدالموگید کہتے ہیں کہ مادی کارپوریشن کو حال ہی میں 28 ملین ڈالر کے آرڈر موصول ہوئے ہیں۔

رائیٹرز کا کہنا ہے کہ مادی کاپوریشن مصر میں فوجی ملکیت کی درجنوں کمپنیوں میں سے ایک ہے جو سابق فوجی صدر السیسی کے دور میں پھلی پھولیں۔

مصری فوج کے ایک کمپنی میں 51 فیصد شیئر ہیں جو قاہرہ سے 75 کلومیٹر مشرق میں 45 ارب ڈالر کی لاگت سے ملک کا نیا دارالحکومت تعمیر کر رہی ہے۔ فوجی ملکیت کی ایک اور کمپنی ملک کا سب سے بڑا سیمنٹ کا کارخانہ تعمیر کر رہی ہے جبکہ فوج کے دیگر کاروباروں میں مچھلی فارمز سے لیکر ہالی ڈے ریزارٹ تک شامل ہیں۔

مصر کے کاروباری حلقے اور غیر ملکی سرمایہ کار فوجی کاروباروں کے حوالے سے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اُنہیں اس سے نقصان پہنچا ہے کیونکہ فوجی ملکیت کی کمپنیوں کو ٹیکس میں چھوٹ سمیت متعدد مراعات حاصل ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی ایجنسی آئی ایم ایف نے بھی ستمبر 2017 میں خبردار کیا تھا کہ فوج کی ملکیت میں چلنے والے کاروباروں کی وجہ سے نجی شعبے کی ترقی اور روزگار کے مواقع متاثر ہوں گے۔

تاہم مصر کی حکومت کا اصرار ہے کہ مصر کے نجی شعبے کیلئے کاروبار کے مساوی مواقع موجود ہیں اور فوجی کاروبار محض مارکیٹ میں موجود گیپ کو پر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت نے 2016 میں نوزائیدہ بچوں کے خوراک کے ڈبوں کی قلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فوج نے اس قلت کو دور کرنے کیلئے بچوں کی خوراک کے ڈبے درآمد کئے اور اب وہ اُن کی ملک کے اندر تیاری کیلئے پلانٹ لگا رہی ہے۔

اسی سال 2016 میں حکومت نے فوجی کاروباروں کو ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے استثنا دے دیا۔ اگرچہ اس سلسلے میں بننے والے قانون میں کہا گیا ہے کہ یہ استثنا ایسی اشیاء، سازوسامان، خدمات اور خام مال میں دیا جائے گا جن کی فوجی ہتھیاروں، دفاع اور قومی سلامتی کیلئے ضرورت ہے لیکن اس بات کا اختیار بھی فوج کو دے دیا گیا کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ اس استثنا کے حقدار کون کون سے کاروبار ہیں۔

سویلین بزنس مین شکایت کرتے ہیں کہ اس سے اس رعایت کے ناجائز استعمال کی راہ ہموار ہو گی۔ مثال کے طور پر نجی شعبے کے ایک ہوٹل میں ایک کپ کافی پر 14 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس کاٹا جاتا ہے لیکن فوجی ملکیت کے ہوٹل اس ٹیکس سے مستثنا ہوں گے۔ تاہم قاہرہ میں موجود فوجی ملکیت کے الماسا ہوٹل نے رائیٹرز کو بتایا کہ شادیوں اور کانفرنسوں کیلئے جگہ کرائے پر دینے پر بھی کوئی ویلیو ایڈڈ ٹیکس چارج نہیں کیا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ فوجی کاروباروں کو تین شعبوں میں تقسیم کیا گیا۔ فوجی پیداوار کی وزارت 20 کاروباروں کو کنٹرول کرتی ہے جبکہ وزارت دفاع درجنوں کاروباروں کی مالک ہے اور سرکاری ملکیت کی عرب تنظیم برائے صنعتکاری کے ماتحت 12 کاروبار ہیں۔

ایک تخمینے کے مطابق ملکی معیشت میں فوجی کاروباروں کا حصہ 20 سے 50 فیصد تک ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG