رسائی کے لنکس

logo-print

کوہستان ویڈیو اسکینڈل کا مدعی بھی قتل


افضل کوہستانی کی ایک فائل تصویر جو ان کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہے۔

خیبر پختونخوا کے شمالی پہاڑی ضلعے کوہستان کے مشہور ویڈیو اسکینڈل کے واحد مدعی اور مرکزی گواہ افضل کوہستانی کو بھی قتل کردیا گیا ہے۔

قتل کی واردات بدھ کی شام ایبٹ آباد میں پیش آئی۔ پولیس حکام کے مطابق افضل کوہستانی مقامی بس اڈے پر ایک سوزوکی پک اپ میں سوار تھے جب ان پر ایک شخص نے فائرنگ کر دی۔ فائرنگ سے افضل کوہستانی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

پولیس کے مطابق موقع پر موجود لوگوں نے فائرنگ کرنے والے شخص کو پکڑنے کی کوشش کی تو حملہ آور نے لوگوں پر بھی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے۔

تینوں زخمیوں کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ حملہ آور کے ساتھ موجود ایک اور شخص کو حراست میں لیا گیا ہے جس کا تعلق کوہستان سے ہے۔

افضل کوہستانی نے 2012ء میں ویڈیو اسکینڈل کی نشان دہی کی تھی۔ ویڈیو کوہستان کے ایک دور دراز گاؤں میں موبائل فون پر ریکارڈ کی گئی تھی جس میں چند خواتین شادی کی ایک تقریب میں گانا گا رہی تھیں جب کہ ان کے مرد رشتے دار رقص کر رہے تھے۔

افضل کوہستانی نے دعویٰ کیا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی چاروں خواتین اور ان کی ایک اور ساتھی کو ویڈیو بنانے کی پاداش میں ان کے قریبی رشتہ داروں نے ہی مبینہ طور پر قبائلی جرگے کے حکم پر قتل کر دیا تھا۔

بعد میں خواتین کے رشتہ داروں نے مبینہ طور پر افضل کوہستانی کے تین بھائیوں کو بھی قتل کر دیا تھا۔

گزشتہ سال نومبر میں افضل کوہستانی کی کوششوں کے نتیجے میں قتل کے الزام میں چار افراد کو پولیس نے گرفتار کیا تھا جن کی ضمانت پر رہائی کے لیے پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ میں درخواستیں زیرِ سماعت ہیں۔

چند روز قبل ہی افضل کوہستانی نے ایک ویڈیو پیغام میں پولیس کے رویے کی مذمت کی تھی اور حکومت سے سیکورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔

افضل کوہستانی کے لواحقین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈی آئی جی ہزارہ ڈویژن اور ڈی پی او مانسہرہ کو اپنی سیکورٹی کے لیے ایک خط بھی لکھا تھا۔

افضل کوہستانی کی جانب سے 2012ء میں ویڈیو اسکینڈل سامنے لانے کے بعد اس واقعے کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ذرائع ابلاع نے بڑی کوریج دی تھی۔

بعد ازاں ارکانِ پارلیمان پر مشتمل ایک وفد سابق صوبائی وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین کی سربراہی میں کوہستان بھی گیا تھا اور حکومت نے واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی تھی۔

پس ماندہ پہاڑی ضلع کوہستان اور ملحقہ مانسہرہ میں غیرت کے نام پر پچھلے سال بھی متعدد خواتین کو قتل کرنے کے واقعات رونما ہوئے تھے۔

افضل کوہستانی کون ہے؟

افضل کا تعلق کوہستان کے علاقے پالس سے ہے۔ ان کے تین بھائیوں کو غیرت کے نام پر جون 2012 میں اُس وقت قتل کیا گیا جب 40 سے 50 ارکان پر مشتمل روایتی جرگے کے فیصلے کے مطابق پہلے ان پانچ لڑکیوں کو ان کے رشتہ داروں نے قتل کیا جو ویڈیو میں دکھائی دی تھیں۔ یہ ویڈیو شادی کی ایک تقریب میں بنائی گئی تھی جس میں یہ لڑکے بھی شامل تھے۔

بعد میں افضل کے تین بھائیوں اور ایک قریبی رشتے دار کو بھی قتل کر دیا گیا جس کے بعد افضل نے علاقہ چھوڑ کر مانسہرہ میں سکونت اختیار کی تھی۔

لڑکیوں اور افضل کے بھائیوں کو قتل کرنے کی ذرائع ابلاغ کو خبر افضل ہی نے دی تھی۔

مختلف اوقات میں بنائے گئے تین کمشنوں کے سامنے جرگے کے ممبران نے دیگر خواتین کو پیش کر کے افضل کوہستانی کے دعووں کی تردید کی تھی۔

تاہم افضل ہر موقع پر اپنے موقف پر ڈٹا رہا اور ان کی کوششوں سے اس واقعہ میں ملوث متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے چار افراد پر پولیس حکام کے بقول لڑکیوں اور افضل کوہستانی کے بھائیوں اور رشتہ دار کے قتل کے الزام میں مقدمات درج کر لئے گئے ہیں۔

پچھلے کئی مہینوں سے افضل کوہستانی کوہستان، مانسہرہ اور پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بیج میں ملزمان کے خلاف مقدمات کی سماعت میں انتہائی متحرک تھا۔ ان مقدمات کی پیروی سے روکنے کے لئے بالآخر اسے بھی قتل کر دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG