رسائی کے لنکس

'اسلام آباد اور واشنگٹن کے مابین جامع بات چیت ضروری ہے'


وزیر دفاع خرم دستگیر (فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات کی ایک واضح سمت کے تعین کے لیے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان جامع بات چیت ضروری ہے۔

نجی ٹی وی چینل 'جیو نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے اور اسے دونوں ملکوں کے باہمی تعاون سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول اس کے لیے پاکستان اور امریکہ کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہو گا۔

وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بے لاگ مذاکرات ہونے چاہئیں اور وزیر خارجہ خواجہ آصف چین اور روس کے دورے کے بعد امریکہ کا دورہ بھی کریں گے ۔

" جب وزیر خارجہ چین اور روس (کے وزرائے خارجہ) سے گفتگو کرنے کے بعد جب وہ واشنگٹن جائیں گے تو دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان گفتگو ہو گی اور اس میں بات ہو گی کہ ہمیں آگے کیسے چلنا ہے۔ پاکستان کی حکومت کا واضح موقف ہے کہ اگر آگے چلنا ہے تو سفارت کاری اور دستاویزات کے ساتھ آگے چلنا ہے اور جو ماضی میں ہم نے غیر رسمی انتظام کار دیکھے ہیں وہ پاکستان کے لیے تباہ کن رہے ہیں۔"

پاکستانی وزیر دفاع نے کہا کہ اس بات کو سراہا جانا چاہیے کہ دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستان نے کسی بھی دوسرے ملک سے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے۔

امریکہ کی انتظامیہ کی افغانستان اور خطے سے متعلق حال ہی میں سامنے آنے والی پالیسی کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔ اس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو یہ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ وہ ہر قسم کے دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور پاکستان میں ایسی محفوظ ٹھکانے موجود نہیں جو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہوں۔

گزشتہ ہفتے کے اوائل میں امریکی انتظامیہ کی افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کے اعلان سے پہلے پاکستانی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکہ کا دورہ کرنا تھا جسے موخر کر دیا اور پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ اب وہ خطے کے ان ملکوں کا دورہ کریں گے جن سے اسلام آباد کے دوستانہ تعلقات ہیں۔

اسلام آباد اور واشنگٹن کے ایک دوسرے کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ تناؤ کو بات چیت سے دور کیا جاسکتا ہے۔

وزیر دفاع خرم دستگیر نے بھی کہا کہ سفارتی رابطوں کو منقطع کرنے کی بات کو کسی طور پر بھی سراہا نہیں جانا چاہیے اور ان کے بقول پاکستان اور امریکہ کے درمیان مختلف سطح پر رابطے اور دیرینہ تعلقات ہیں جنہیں جاری رکھنا ضروری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG