رسائی کے لنکس

ہندو برادری کا الزام ہے کہ کچھ شدت پسندوں نے ان کی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی لاش کو ناصرف قبر سے نکال کر باہر پھینک دیا, بلکہ اس کی لاش کو گلیوں میں گھسیٹا گیا

کراچی۔۔۔صوبہ سندھ کے قصبے پنگریو میں قبر کے تنازع پر ہندووٴں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی پھیل گئی ہے۔ ہندو برادری کا الزام ہے کہ کچھ شدت پسندوں نے ان کی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی لاش کو ناصرف قبر سے نکال کر باہر پھینک دیا, بلکہ اس کی لاش کو بھی گلیوں میں گھسیٹا گیا۔

پولیس کے مطابق, اس واقعے کے خلاف ہندووٴں نے سخت احتجاج کیا جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ضلعی پولیس افسر شوکت علی کھٹیان کے مطابق، کشیدگی ابھی باقی ہے۔ تاہم، صورتحال کو پولیس نے قابو میں کرلیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ہفتے کے روز ایک 30سالہ ہندو شخص بھیرو بھیل سڑک حادثے میں انتقال کرگیا جسے پنگریو کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ جس قبرستان میں اسے دفن کیا گیا وہ صدیوں سے مسلمانوں اور ہندووٴں کے زیر استعمال ہے۔ دونوں برادری کے لوگ اسے اپنے اپنے مردوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

ضلعی پولیس افسر کے مطابق بھیرو بھیل کی تدفین پر اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے قبرکے تنازع پر ہنگامہ آرائی شروع کردی جس سے کشیدگی بڑھ گئی یہاں تک کہ انتظامیہ کو پولیس بلانا پڑی۔

سندھ میں ہندوٴوں کی بڑی تعداد آباد ہے جو مجموعی طور پر 2لاکھ بنتی ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں یہاں مسلمانوں اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد 18لاکھ بنتی ہے۔
XS
SM
MD
LG