رسائی کے لنکس

logo-print

عراقی قصبے پر داعش کے قبضے کی متضاد اطلاعات


البغدادی کے قریب واقعہ عین الاسد فضائی اڈے پرجمعہ کو شدت پسندوں نے حملہ کیا لیکن عراقی فورسز نے اسے پسپا کر دیا۔

عراق کے مغربی علاقے البغدادی پر داعش کے قبضے کی متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

پینٹا گون کے ترجمان ریئر ایڈمرل جان کربی کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے البغدادی پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس قصبے سے صرف 13 کلومیٹر دور عین الاسد فضائی اڈے پر امریکی فوجی عراقی فورسز کی تربیت میں مصروف ہیں۔

جان کربی نے کہا کہ "اس وقت ہمار جائزہ یہی ہے کہ البغدادی پر داعش قابض ہے۔"

لیکن داعش کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی کمبائنڈ جوائنٹ ٹاسک فورس کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ البغدادی شدت پسندوں کے قبضے میں نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر ان کا کہنا تھا کہ "اس بارے میں کوئی اور خبر غلط ہے، پینٹاگون کو تازہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔"

عہدیدار کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں نے علاقے میں ایک پولیس اسٹیشن پر جمعرات کو قبضہ کیا تھا لیکن عراقی فورسز نے اسی روز اسے وا گزار کروا لیا۔ ان کے بقول اس کے بعد سے قصبے میں کوئی تازہ جھڑپ نہیں ہوئی ہے۔

اس بارے میں جب پینٹاگون کے ایک اور عہدیدار کرنل اسٹیو وارن سے دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ صورتحال اس حد تک مبہم ہے کہ وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ شدت پسند قصبے پر قابض ہیں یا نہیں۔

البغدادی کے قریب واقعہ عین الاسد فضائی اڈے پرجمعہ کو شدت پسندوں نے حملہ کیا لیکن عراقی فورسز نے اسے پسپا کر دیا۔

پینٹاگون کے مطابق عراقی فوج کی وردی میں ملبوس داعش کے 20 سے 25 شدت پسندوں نے یہ حملہ کیا اور اس دوران بعض حملہ آوروں نے اپنی خود کش جیکٹوں میں دھماکے بھی کیے۔

ترجمان کربی کا کہنا تھا کہ عراقی فورسز نے بغیر اپنے کسی جانی نقصان کے حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔ ان کے بقول لڑائی کے مقام کے قریب کوئی بھی امریکی فوجی موجود نہیں تھا۔

XS
SM
MD
LG