رسائی کے لنکس

logo-print

کانگو میں باغیوں نے 321 دیہاتیوں کو قتل کردیا: ہیومن رائٹس واچ


امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی ایک نتظیم کا کہنا ہے کہ جمہوریہ کانگو میں باغیوں نے پچھلے سال دسمبر میں، خبروں میں نہ آنے والے ایک قتل عام میں، کم ازکم 321 دیہاتیوں کو ہلاک کردیاتھا۔

اتوار کے روز ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ باغیوں نے 14 دسمبر کو جمہوریہ کانگو کے شمال مشرقی صوبے ہاؤٹ یولے کے کم ازکم 10 دیہاتوں میں چار روزہ قتل عام کا آغازکیا تھا۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مقتول مرد تھے، جنہیں باندھ کر ان پر خنجروں سے حملہ کیا گیاتھا اور ان کے سروں کو کلہاڑیوں سے کچل دیا گیا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ہلاک کیے جانے والوں میں ایک تین سالہ لڑکی بھی شامل ہے جسے زندہ جلا یاگیاتھا۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ لارڈز ریزسٹٹنس آرمی کے(Lord’s Resistance Army) جسے ایل آراے بھی کہا جاتا ہے، باغیوں نے دیہاتوں سے کم ازکم 250 افراد کو اغوا کیا جن میں 80 بچے بھی شامل تھے۔

نتظیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے بہت سے افراد کو مجبور کیا کہ وہ باغیوں کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بچوں کو ہلاک کردیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے افریقی امور سے متعلق ایک ماہر اینکے وین وڈن برگ کا کہنا ہے کہ یہ ایل آر اے کی گذشتہ دوتین سال کی تاریخ کا بدترین قتل عام تھا۔

ایل آر اے کے لیڈر جوزف کونی، جنگی جرائم کے الزامات کے تحت بین الاقوامی فوجداری عدالت کو مطلوب ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایک عہدے دار نے قتل عام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ اس سلسلے میں تحقیقات کررہاہے۔

XS
SM
MD
LG