رسائی کے لنکس

logo-print

چھ بھارتی ریاستوں کا شہریت بل پر عمل درآمد سے انکار


فائل فوٹو

بھارت کی چھ ریاستوں نے حکومت کی جانب سے منظور کیے متنازع شہریت بل پر عمل درآمد سے انکار کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق بھارت کی ریاستوں پنجاب، مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، کیرالہ اور چھتیس گڑھ کے وزرائے اعلٰی نے اس متنازع بل پر عمل درآمد نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

متنازع بل کے خلاف بھارت کی مختلف ریاستوں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتی ریاست آسام کے شہر گوہاٹی میں انتظامیہ نے کرفیو لگا رکھا ہے۔

کانگریس کی بھارت بچاؤ ریلی

بھارت کی حکومت کی جانب سے متنازع شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے خلاف حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت انڈین نیشنل کانگریس نے نئی دہلی میں 'بھارت بچاؤ' ریلی کا اہتمام کیا ہے۔

ہفتے کو نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی، سابق وزیر اعظم، راہول گاندھی، پریانکا گاندھی سمیت دیگر رہنما خطاب کریں گے۔

بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے شہریت ترمیمی بل کو بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور کرا لیا گیا تھا۔ جس کے بعد بھارت کے صدر نے بھی اس بل پر دستخط کر دیے تھے۔

اس بل کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں مذہب کی بنیاد پر نشانہ بننے والے غیر مسلموں کو بھارت کی شہریت دی جا سکے گی۔ بھارت کی حزبِ اختلاف کی جماعتیں اس بل کو آئین سے متصادم قرار دے رہی ہیں۔

ہفتے کو ہونے والی ریلی کے حوالے سے کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا کہ وہ بی جے پی کے آمرانہ طرز حکمرانی، معاشی بدحالی اور جمہوریت کے قتل کے خلاف جلسے سے خطاب کریں گے۔

راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کو 'آئی سی یو' میں ڈال دیا ہے۔

ریلی میں بڑی تعداد میں کارکنوں کو لانے کے لیے پنجاب، ہریانہ، اتر پردیشں اور دہلی کی تنظیموں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

بھارت کے مختلف شہروں سے آنے والے کانگریس رہنماؤں اور کارکنوں کے استقبال کے لیے ریلوے اسٹیشنز اور ایئر پورٹس پر خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

جلسہ گاہ کے اطراف سونیا گاندھی، راہول گاندھی سمیت کانگریس رہنماؤں کی تصاویر آویزاں کی گئ ہیں۔ دنیا کے دیگر ممالک سے بھی کانگریس کے رہنما ریلی میں شریک ہو رہے ہیں۔

شہریت بل کے خلاف مظاہرے

متنازع بل کی منظوری کے خلاف بھارت میں بڑے پیمانے پر ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ بھارت کی ریاست آسام میں مشتعل مظاہرین نے توڑ پھوڑ کے علاوہ سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو وارننگ جاری کی ہے کہ وہ شمال مغربی بھارت میں جانے سے گریز کریں۔ جہاں احتجاج زور پکڑ رہا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق ریاست آسام کے شہر گوہاٹی میں پرتشدد مظاہروں کے دوران اب تک دو افراد ہلاک اور 26 زخمی ہو چکے ہیں۔

مغربی بنگال، کرناٹک، کیرالہ، گجرات اور دارالحکومت نئی دہلی میں بھی بل کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔

بھارت کی مسلمان تنظیموں نے بھی اس ترمیمی بل کی مذمت کرتے ہوئے اسے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندوتوا پالیسی کا تسلسل قرار دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG