رسائی کے لنکس

'فلن نے غیرملکی وصولیوں کے قانون کی خلاف ورزی کی'


مائیکل فلن۔ فائل فوٹو

فلن نے روس کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے 45 ہزار ڈالر لیے تھے اور ترک حکومت کی جانب سے لابنگ کے لیے پانچ لاکھ ڈالرسے زیادہ کی رقم وصول کی تھی ۔

دو ممتاز امریکی قانون سازوں نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابقہ سیکیورٹی ایڈوائزر نے ان ادائیگیوں کو ظاہر نہ کر کے جو انہوں نے عوامی ر ابطوں کے لیے غیر ملکی حکومتوں سے وصول کیں، بظاہروفاقی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی ایک نگران کمیٹی کے چئیر مین ری پبلکن، جیسن چیفٹزاور کمیٹی کے سینیر ڈیمو کریٹک رکن ایلیجا کیومنگز نے منگل کے روز کہا کہ جنرل مائیکل فلن کو روسی فنڈز سے چلنے والے ٹی وی اسٹیشن آر ٹی کی طرف سے 2015 میں اسپانسر کی گئی ایک تقریب میں ، جہاں وہ روسی صدر ولادی میر پوٹن کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھے تھے ، ادائیگی پر مبنی ایک تقریر کرنے کے لیے اجازت لینی چاہیے تھی۔

فلن نے اس تقریب کے لیے 45 ہزار ڈالر وصول کیے تھے اور ترک حکومت کی جانب سے لابنگ کے لیے پانچ لاکھ ڈالرسے زیادہ کی رقم وصول کی تھی ۔

ایوان کی اوور سائٹ کمیٹی کے چئیر مین جیسن چیفٹز نے کہا کہ ایک سابقہ فوجی افسر کے طور پر آپ روس، ترکی یا کسی اور سے رقم نہیں لے سکتے اور ایسا دکھائی دیتا ہے کہ گویا انہوں نے وہ رقم لی تھی ۔یہ غیر مناسب تھا ، اور قانون کی خلاف ورزی کے بہرطور نتائج سامنے آتے ہیں ۔

چیفٹز اور کیومنگز نے فلن کے خلاف الزامات اس کے بعد ختم کر دئیے جب وائٹ ہاؤس نے غیر ملکیوں کے ساتھ فلن کے رابطے سے متعلق دستاویزات کے لیے کمیٹی کی درخواست مسترد کر دی۔

پریس سیکرٹری شان سپائسرنے وائٹ ہاؤس کی جانب سے درخواست مسترد کیے جانے کےدعووں کی اہمیت کو گھٹاتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کو جو دستاویزات درکار تھیں، اس نے وہ تمام دستاویزات دوسرے اداروں سے حاصل کر لی تھیں ۔

انہوں نے کہا کہ وہائٹ ہاؤس سے وہ دستاویزات فراہم کرنے کے لیے کہنا جو اس کی ملکیت میں نہیں تھیں، مضحکہ خیز بات ہے۔

فلن کو اس کے بعد وائٹ ہاؤس چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا جب انہوں نے ، ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل ، عبوری دور کے عرصے کے دوران امریکہ کےلیےروسی سفیر سرگئی کسلیاک سےاپنی گفتگو کے بارے میں نائب صدر مائک پینس سے غلط بیانی کی ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG