رسائی کے لنکس

’تضحیک آمیز‘ پریس کانفرنس پر سپریم کورٹ کی ازخود کارروائی


چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس (فائل فوٹو)
چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس (فائل فوٹو)

پاکستان کی عدالت عظمٰی نے ملک کی معروف کاروباری شخصیت اور ’بحریہ ٹاؤن‘ منصوبے کے خالق ملک ریاض کی مبینہ تضحیک آمیز پریس کانفرنس کا بدھ کو ازخود نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر اس مقدمے کی سماعت شروع کر دی۔

جسٹس شاکر اللہ جان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ملک ریاض کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انھیں جمعرات کے روز عدالت میں طلب کیا ہے۔

اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں منگل کو ہنگامی طور پر بلائی گئی پریس کانفرنس میں ملک ریاض نے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بڑے بیٹے ڈاکٹر ارسلان افتخار اُنھیں’’بلیک میل‘‘ کر کے اُن سے کروڑوں روپے اور دیگر فوائد حاصل کرتے رہے ہیں۔

مزید برآں اُنھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ چیف جسٹس کے ساتھ رات کے اندھیرے میں اُن کی ملاقاتیں بھی ہوتی رہی ہیں جن میں ڈاکٹر ارسلان بھی موجود تھے۔ ملک ریاض نے اپنی پریس کانفرنس میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے سوالات کا جواب طلب کرتے ہوئے کہا کہ وہ 14 جون کو اس سلسلے میں مزید انکشافات بھی کریں گے۔

ملک ریاض حسین
ملک ریاض حسین

ان کے بقول ڈاکٹر ارسلان ان سے یہ کہہ کر بھاری رقوم وصول کرتے رہے کہ وہ سپریم کورٹ میں ملک ریاض کے خلاف زیر التوا مقدمات کے فیصلے ان کے حق میں کروانے کے لیے اپنے والد کو راضی کریں گے۔

پاکستان میں قانونی حلقوں میں ملک ریاض کے سر عام دعوؤں پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا ہے اور خود ان کے اپنے وکیل زاہد بخاری نے بھی بدھ کو اپنے موکل کے اس اقدام سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

’’اس میں میری مشاورت نہیں دی تھی۔۔۔ ملک ریاض صاحب نے اپنی مرضی سے اپنا دکھڑا، اپنے خیالات آپ لوگوں کے سامنے پیش کیے۔‘‘

چیف جسٹس کے بیٹے پر ان الزامات کے منظر عام پر آنے کے بعد عدالت عظمٰی نے از خود کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر ارسلان اور ملک ریاض کا موقف سننے کے لیے انھیں عدالت میں پیش ہونے کے احکامات جاری کیے۔ ان ہدایت پر عمل کرتے ہوئے پہلے چیف جسٹس کے بیٹے نے اپنا بیان عدالت عظمیٰ میں جمع کرایا جس میں انھوں نے اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کی تردید کی۔

تاہم ملک ریاض نے اپنے وکیل کے ذریعے منگل کو عدالت عظمیٰ میں ڈاکٹر ارسلان کے خلاف ’’دستاویزی شواہد‘‘جمع کرائے۔

XS
SM
MD
LG