رسائی کے لنکس

logo-print

یونان سے پناہ گزینوں کی ترکی واپسی کا عمل شروع


معاہدے کے تحت یونان سے ترکی واپس بھیجے گئے پناہ کے لیے ہر نااہل گزین کے بدلے میں ایک اہل پناہ گزین کو ترکی سے لے جا کر یورپی یونین میں آباد کیا جائے گا۔

پیر کو یونان کے جزیروں لیسبوس اور شیوش سے حکام نے سخت سکیورٹی میں 202 پناہ گزینوں اور تارکین وطن کو کشتیوں میں بٹھا کر ترکی کی طرف روانہ کیا۔

یورپ میں پناہ گزینوں کا داخلہ محدود کرنے کے لیے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت یہ تارکین وطن کے پہلے گروپ کی واپسی تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان میں سے دو شامیوں کے علاوہ تمام پاکستانی ہیں۔

اس معاہدے کو انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ترکی سے غیر قانونی طور پر یونان پہنچنے والے پناہ گزین اگر پناہ کے اہل نہ ہوئے تو معاہدے کے تحت انہیں ترکی واپس بھیج دیا جائے گا۔

علی الصباح شروع ہونے والے آپریشن میں پناہ گزینوں کو چھوٹی کشتیوں میں بٹھا کر یورپ سے قریب ہی واقع ترک بندرگاہوں تک پہنچایا جا رہا ہے۔

پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کی کمیٹی کے ترجمان جیورجوز کرائٹسس نے سرکاری ٹیلی وژن کو بتایا کہ ’’دو شامیوں کے علاوہ واپس بھیجے گئے تمام تارکین وطن کا تعلق پاکستان سے ہے۔ یہ شامی اپنی مرضی سے واپس جا رہے ہیں۔‘‘

معاہدے کے تحت سینکڑوں پناہ گزینوں کو ترکی واپس بھیجا جائے گا۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ پیر کو ڈکیلی بندرگاہ پر 500 افراد کو واپس بھیجا جائے گا۔

جیورجوز نے کہا کہ ’’واپسی کا کوئی نظام الاوقات نہیں۔ پناہ کی درخواستوں کو نمٹانے میں کچھ وقت لگے گا۔‘‘

20 مارچ کو نافذ ہونے والے معاہدے کے بعد سے یونان کے جزائر پر 4,000 پناہ گزینوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

معاہدے کے تحت یونان سے ترکی واپس بھیجے گئے پناہ کے لیے ہر نااہل گزین کے بدلے میں ایک اہل پناہ گزین کو ترکی سے لے جا کر یورپی یونین میں آباد کیا جائے گا۔

اس معاہدے کا مقصد انسانی سمگلنگ کے کاروبار کو ختم کرنا ہے جو ترکی سے لوگوں میں یورپ بھیجنے میں ملوث ہیں۔

XS
SM
MD
LG