رسائی کے لنکس

logo-print

چین میں کرونا وائرس کا کوئی نیا کیس نہیں آیا، جنوبی کوریا اور جاپان میں لاک ڈاؤن سخت


روس میں کلینکل ٹرائلز شروع کر دیے گئے ہیں۔ سینٹ پیٹربرگ کی ایک لیب میں رضاکار اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چین میں کرونا وائرس کے کسی نئے مریض کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ووہان چین کا وہ شہر ہے جہاں سے اس وائرس کی شروعات ہوئی اور وہ دنیا بھر میں پھیلنا شروع ہوا۔ چین وائرس پر کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

چین کے پڑوس بھارت میں عالمی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور ہفتے کے روز بھارت میں تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 32 ہزار کے قریب تھی اور اموات 3800 سے بڑھ چکی تھیں۔

چین کے ہمسایہ میں واقع پاکستان میں بھی وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور پازیٹو کیسز کی تعداد 52 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔

چین کے ایک اور پڑوسی ملک روس میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے وہ دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔ وہاں متاثرہ کیسز کی تعداد تین لاکھ 35 ہزار ہے۔

ہفتے کے روز جنوبی کوریا میں کرونا وائرس کے 23 کیس سامنے آئے، جن میں زیادہ تر کا تعلق سیول کے گنجان آباد علاقوں سے تھا۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں حکام نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ہزاروں نائٹ کلب، بار اور موسیقی کے مراکز بند کر دیے ہیں۔

جنوبی کوریا میں اس وقت کرونا کے گیارہ ہزار سے زیادہ تصدیق شدہ مریض ہیں جب کہ 266 اموات ہو چکی ہیں۔

نئے کیسز سامنے آنے کے بعد حکام نے سیول میں مزید 2629، شراب خانے اور موسیقی کے مراکز بند کر دیے، جس کے بعد بند کیے جانے ان تفریحی مراکز کی مجموعی تعداد 8363 ہو گئی ہے۔

جنوبی کوریا کی پانچ کروڑ 10 لاکھ آباد کا نصف سے زیادہ حصہ دارالحکومت سیول اور اس کے گرد و نواح میں رہتا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں شراب خانے، نائٹ کلب اور دیگر تفریحی مراکز ہیں اور آبادیاں انتہائی گنجان ہیں، جس کی وجہ سے شروع دنوں میں یہاں کرونا وائرس تیزی سے پھیلنا شروع ہوا تھا۔ جس پر حکام نے لاک ڈاؤن کی پابندیاں عائد کر دیں۔

جنوبی امریکہ میں بھی وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آ گئی ہے۔ وہاں برازیل سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن کر ابھرا ہے اور تین لاکھ 40 ہزار مریضوں کے ساتھ دہ دنیا کا دوسرا سب سے متاثرہ ملک بن گیا ہے۔ آج برازیل میں تقریباً دس ہزار نئے کیسز کی تصدیق ہوئی۔

جاپان نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نئے ضوابط نافذ کیے ہیں، جس کے تحت نائٹ کلب اور دیگر عوامی مقامات پر ہر آدھے گھنٹے کے بعد دروازوں کے ہینڈل، اور میزیں جراثیم کش کیمیکلز سے صاف کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ گاہکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ میز کے گرد ایک کرسی خالی چھوڑ کر بیٹھیں۔ ہوٹلوں اور بارز میں کام کرنے والوں کو ہر آدھے گھنٹے کے بعد اپنے ہاتھ صابن سے دھونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ جاپان میں کرونا وائرس کے 16000 سے زیادہ مریض ہیں اور 800 کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG