رسائی کے لنکس

logo-print

 کرونا وائرس کی عالمی وبا سے بچاؤ کے خصوصی کیمپ


یونان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ ایک این جی او نے وہاں ایک کیمپ قائم کیا ہے جہاں رہنے والوں کو ضروریات زندگی فراہم کی جاتی ہیں اور وہ لوگوں کے لیے ماسک تیار کرتے ہیں۔ 25 مارچ 2020

کرونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے دنیا بھر میں کروڑوں لوگ گویا اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور ان کے روز و شب بیشتر ان کی رہائش گاہوں تک محدود ہیں۔ تاہم، اس مشکل صورتحال نے بعض ایسے کاروباروں کے لئے جنھیں بچاؤ کے کیمپ سے تعبیر کیا گیا ہے منافع کا سامان مہیا کر دیا ہے۔

ان ہی میں فورٹی چوٹ رینچ بھی شامل ہے، جس سے بہت سے لوگ رجوع کر رہے ہیں اور اس کی رکنیت حاصل کر رہے ہیں۔

کرونا وائرس نے جب کہ عالمی وبا کی شکل اختیار کر لی ہے، اس قسم کی پناہ گاہیں حوصلے اور راحت کا سامان ہیں۔ یہاں وہ تمام سہولتیں مہیا کی گئی ہیں جو روز مرہ زندگی میں ایک انسان کو درکار ہوتی ہیں۔ ان سہولتوں کا اہتمام لمبے عرصے تک کے لئے موجود ہے۔

وائس آف امریکہ کے لئے پینیلوپولو نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس قسم کی پناہ گاہیں امریکی ریاست کولوراڈو کے ایک دیہی علاقے اور ویسٹ ورجینیا میں قائم ہیں۔

کیمپ کے منیجر ڈیو ملیر کا کہنا ہے کہ اس کی ممبرشپ فیس فی کس ہزار ڈالر ہے۔ اس کے گرد بڑا سا احاطہ تعمیر کیا گیا ہے جہاں رہائش کی سہولت موجود ہے۔ کھانے پینے کی اشیا کا بڑا ذخیرہ کیا گیا ہے جو لوگوں کی دسترس میں ہے۔

منتظمین کے مطابق، ''کمیونٹی میں مکمل انتشار اور بندش کی صورتحال میں بھی لوگوں کو سپلائی ملتی رہے گی اور چاہے قیامت کا سماں ہی کیوں نہ ہو انھیں کسی پریشانی کا سامنا نہیں ہو گا''۔

پناہ گاہ کے مینجر کہتے ہیں کہ آپ ایسے منظر نامے کا تصور کریں جب پانی بجلی کچھ بھی دستیاب نہ ہو اور خوراک کا سامان بھی ختم ہو رہا ہو تو پھر ایک عام آدمی کس طرح اور کب تک اپنی بقا کی جنگ لڑ سکتا ہے۔ ہم نے اس قیامت جیسی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر ایسا انتظام کیا ہے کہ لوگوں کو تمام بنیادی ضروریات اس کمپاونڈ میں سال بھر کے لئے دستیاب ہوں بلکہ اس کے بعد بھی وہ ملتی رہیں۔

انھوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کے ان کے کیمپ میں ہتھیاروں کا بھاری ذخیرہ بھی موجود ہےجو کسی ہنگامی صورتحال میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس بات کا امکان ہو سکتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ ٹولے اور دوسرے لوگ کھانے پینے کی اشیا کو لوٹنے کے لئے حملہ آور ہوں اور لوگوں کو ہلاک کر دیں۔ پھر اس صورتحال کے لئے آپ کو ہتھیار چاہییں اور ساتھ ہی تربیت یافتہ محافظ بھی اور ان سب کا کیمپ کے احاطے میں معقول انتظام کیا گیا ہے۔

یہاں طبی سہولتوں اور علاج معالجے کا بھی انتظام ہے۔ انھوں نے بتایا کہ امن و امان کی صورت میں یہ کیمپ تفریح گاہ کے طور پر کام آتا ہے۔ تاہم، بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی قیامت جیسے منظر نامے میں کہیں بھی لامحدود انتظامات کرنا ممکن نہیں اور یہ محض خام خیالی ہے۔

دوسری جانب منتظمین کا دعویٰ ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد اس پناہ گاہ کی ممبرشپ کے لئے درخواستوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، وہ کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کرونا وائرس سے بھی بڑی مہلک عالمی وباؤں، جراثمی دہشت گردی یا ایٹمی تباہی کے خلاف خطرے کی گھنٹی ہے، جس سے دنیا تہ و بالا ہو سکتی ہے جب لوگ جائے پناہ ڈھونڈتے پھر رہے ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG