رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کی وبا اور ملکوں کے لئے امریکی امداد


JHU World Corona March 24

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے وہ شمالی کوریا، ایران اور ان دوسرے ملکوں کی مدد کے لئے تیار ہیں جنہیں اسوقت مدد کی ضرورت ہے۔

دنیا کے کم از کم 167 ملکوں میں لاکھوں لوگ کرونا وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔ اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ عالمی سطح پر امداد فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن انہوں نے کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔

انکے الفاظ تھے کہ سرجن جنرل دوسرے ملکوں سے بات چیت کر رہے ہیں وہ ان سے یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ “ہم آپ کیلئے کیا کریں۔” آج تک کسی نے ایسی صورت حال نہیں دیکھی ہے۔ اور میں چاہتا ہوں کہ ہر شخص جان لے کہ ہم مدد کریں گے۔ ہم تمام لوگوں کی مدد کریں گے جن میں شمالی کوریا، ایران اور دوسرے ممالک شامل ہیں۔ ایسا کرنا بہت اہم ہے۔

مارچ کے اوائل میں امریکی کانگریس نے کرونا کے سلسلے میں کوئی آٹھ ارب ڈالر کا بل منظور کیا تھا۔ اس میں سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم عالمی سطح پر سرگرمیوں کے لئے مختص کی گئی تھی۔ اس میں یو ایس ایڈ کے ذریعے مدد کی رقم بھی شامل ہے۔

سنٹر فار انٹرنیشنل اسٹرٹیجک اسٹڈیز میں گلوبل ہیلتھ پالیسی سینٹر کے ڈائریکٹر اسٹیفن موریسن کہتے ہیں کہ اس میں تین سو ملین ڈالر یو ایس ایڈ کے بھی بیرون ملک کام کرنے کے لئے شامل ہیں، خاص طور سے کم آمدنی والے ملکوں کی مدد کے لئے جن میں افریقی ملک بطور خاص شامل ہیں۔

دریں اثنا، اس امید پر کہ شاید اس نکتہ چینی کی شدت میں کمی آجائے کہ چین نے اس مرض کو پھیلنے دیا۔ چینی کمپنیاں اس مرض کے ٹیسٹ کٹ اور ادویات وغیرہ یورپی ممالک اور افریقہ کے تمام کے تمام 54 ملکوں میں فروخت کر رہی ہیں اور عطیات دے رہی ہیں۔

اور روبرٹ ڈالے ولسن سینٹر میں انسٹیٹوٹ آف چائنا اینڈ یونائٹیڈ اسٹیٹ کے کیسنگر انسٹیٹوٹ کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چین اس صورت حال میں کرونا وائرس کے حوالے سے خیر سگالی پیدا کرنے کا ایک بڑا موقع دیکھتا ہے۔ اور اس کو حاصل اس موقعے کی جزوی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور یوروپ غیر فعال رہے ہیں۔

ادھر پیر کے روز صحت کی عالمی تنظیم ڈبلو ایچ او نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا بڑھتی جا رہی ہےاس نے G-20 کے ملکوں کے لیڈروں سے کہا ہے کہ وہ صحت کے شعبے میں کام کرنے والوں کے حفاظتی آلات وغیرہ تیز رفتاری سے تیار کریں۔

XS
SM
MD
LG