رسائی کے لنکس

logo-print

'امیت جی نے کرونا وائرس کو ٹھینگا دکھا دیا'


Amitabh Bachan

امیتابھ بچن نے اپنے پیغام میں کہا ہے "ہیلو نمسکار۔ ہم ہیں امیتابھ بچن اور یہاں بہت دنوں سے کرونا وائرس کو لے کر چرچا ہو رہی ہے۔ اس وائرس سے سب لوگوں کا گھر گھر بہت نقصان بھی ہو رہا ہے سب لوگ گھبرائے ہوئے ہیں۔ چنتا میں ہیں۔"

اب امیت جی کا مزاج ایسا ہے کہ کوئی بھی چنتا کا معاملہ ہو تو وہ نچلے نہیں بیٹھ سکتے۔ وحشیانہ ریپ بھارت کی بیٹی کا ہو یا پاکستان کی ننھی بچی زینب کا، کسانوں کی اجتماعی خودکشیاں ہوں یا ساحلوں کی آلودگی، وہ اپنے غم و غصے کو فلموں میں، ٹیلی وژن پر اور سب سے زیادہ ٹوئٹر پر شئیر ضرور کرتے ہیں۔

کرونا کو وہ کیسے جانے دیتے۔ بلکہ بقول انکے"کرونا، پھرونا" کو۔ انہوں نے کہا "آج صبح صبح ہمیں بھی لگا کہ ہمیں بھی کچھ بول دینا چاہیئے اس پر۔ اور اسی لیے میں نے بیٹھے بیٹھے اس پر پنکھتیاں لکھ دی ہیں۔ سوچا کہ آپ کو بھینٹ میں دے دوں۔"

آپ کو یا دلادوں کہ الہ باد کے باسی امیت جی کے علاقے کے لوگ یہی خوبصورت زبان بولتے ہیں۔

بہتیرے علاج بتاویں جنے جنمانس سب

کے کر سُنیں، اور کے کر ناہیں؟

کون بتائے یہ سب

کوئی کہس کہ کلونجی پیسو

کوئی کہس آ ملہ رس

کوئی کہس کہ گھر میں بیٹھو

ہلو نہ ٹس سے مس

ایر کہن اور بیر کہن کہ ایسا کچھ بھی کرونا

بن صابن کے ہاتھ دھوئے کے کوئی کو بھیا چھوو نہ

ہم کہا چلو کر دیتے ہیں جیسن بولیں سب

آوے دے کرونا، پھرونا

ٹھینگوا دکھاون تب"[امیتابھ بچن]

تو انجوائے کریں کروڑوں کے محبوب فنکار کی "کرونا شاعری" کو، جس کو لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔ دل تو چاہتا ہے کہ امیت جی کی طرح میں بھی کہوں،" کہا سنا معاف کیجیئے گا"۔ لیکن ،کرونا واائرس کے اس دور میں ایسا کچھ کہنے سے ڈر لگتا ہے تو ۔۔۔۔

" آوے دے کرونا، پھرونا

ٹھینگوا دکھاون تب"۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG