رسائی کے لنکس

کیا کرونا وائرس چین کی لیبارٹری سے باہر نکلا؟


ایک غیر ملکی صحافی چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک ڈیری فیکٹری میں داخل ہونے کے لیے ماسک پہن رہا ہے۔ 27 فروری 2020

کرونا وائرس اب چین سے نکل کر کم از کم 40 ملکوں میں پھیل چکا ہے اور اس کے نئے مریضوں کی تعداد چین کے مقابلے میں بیرونی دنیا میں بڑھ گئی ہے۔ اگر یہ وائرس ان غریب اور پس ماندہ ملکوں میں داخل ہو گیا جہاں صحت کی سہولتیں برائے نام ہیں تو اس کی ہلاکت خیزی میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ وائرس کے پھیلنے کے ساتھ اب یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کہیں یہ کسی بائیو لیب سے تو برآمد نہیں ہوا۔

کرونا وائرس کے متعلق تشویش میں اس لیے بھی اضافہ ہو رہا ہے کہ اس کی لپیٹ میں ایسے افراد بھی آ چکے ہیں، جنہوں نے چین کا سفر کیا تھا نہ ہی وہ چین سے آنے والے کسی شخص سے رابطے میں آئے تھے۔ یہ گتھی ابھی تک نہیں سلجھ رہی کہ انہیں یہ مرض کس طرح لگا۔

ایسے ہی کچھ افراد کا تعلق اٹلی سے ہے جہاں 400 افراد کے وائرس میں مبتلا ہونے اور 12 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ یہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 25 فی صد اضافہ ہے جس سے یورپ کی فکرمندی میں اضافہ ہو گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے بدھ کے روز کہا کہ دنیا کے دیگر ملکوں میں کرونا وائرس کے نئے مریضوں کی تعداد پہلی بار چین سے بڑھ گئی ہے۔ اٹلی، ایران اور کوریا میں مریضوں کی تعداد میں اچانک بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے جس پر صحت کے عالمی ادارے نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایران کے ایک اسپتال میں کورونا وائرس کے مریضوں کا خصوصی یونٹ
ایران کے ایک اسپتال میں کورونا وائرس کے مریضوں کا خصوصی یونٹ

تاہم، عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ابھی یہ وائرس اس سطح پر نہیں ہے کہ اسے عالمی وبا کا نام دیا جا سکے۔

اس وقت دنیا کے کم ازکم 40 ملکوں میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی اطلاعات آ چکی ہیں۔

کرونا وائرس کیا ہے؟

کرونا وائرس فلو سے ملتا جلتا مرض ہے۔ اس کا وائرس پھیپھڑوں پر حملہ کرتا ہے جس سے نمونیئے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ مرض کی شدت کی صورت میں پھیپھڑے کام چھوڑ دیتے ہیں اور موت واقع ہو جاتی ہے۔

کرونا وائرس کہاں سے آیا؟

کرونا وائرس عموماً جانوروں میں پایا جاتا ہے۔ اس سے ملتا جلتا ایک اور وائرس ایم ای آر ایس کرونا وائرس تھا جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ لیکن وہ زیادہ مہلک نہیں تھا۔ اس سے پہلے پرندوں میں پایا جانے والا وائرس اپنی ہیئت بدل کر برڈ فلو بن گیا تھا، جس سے دنیا بھر میں بہت خوف و ہراس پھیلا۔ 1918 میں پھیلنے والے فلو کا ایک وائرس دنیا بھر میں 5 کروڑ سے زیادہ جانیں لے کر ٹلا تھا۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں برڈ فلو 100 سے زیادہ افراد کو نگل چکا ہے۔

فلپائن کے شہر منیلا کا ایک اسپتال جہاں کورونا کے مریض رکھے جا رہے ہیں۔
فلپائن کے شہر منیلا کا ایک اسپتال جہاں کورونا کے مریض رکھے جا رہے ہیں۔

حالیہ عرصے کے مہلک وائرس میں سارس پہلے درجے پر ہے۔ 2002 میں چین سے شروع ہونے والے اس وائرس کا ہدف اگرچہ 8000 کے لگ بھگ لوگ بنے تھے، لیکن اس کی ہلاکت کی شرح بہت زیادہ تھی۔ اس سے 774 افراد ہلاک ہوئے۔

کرونا وائرس کو تیزی سے پھیلاؤ اور ایک سے دوسرے شخص کو منتقلی کے اعتبار سے سب سے خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ اس وائرس میں مبتلا مریضوں میں ہلاکت کی شرح 2 فی صد کے لگ بھگ ہے، جب کہ ایک سے دوسرے کو منتقل ہونے والی کئی دوسری بیماریوں میں ہلاکتوں کی سطح اس سے کم ہے۔

بیماریوں سے بچاؤ اور کنٹرول کے امریکی مرکز کی ایک رپورٹ کے مطابق، یکم اکتوبر 2019 سے یکم فروری 2020 تک امریکہ میں فلو سے 12 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جب کہ تشویش ناک حالت کے سبب ساڑھے تین لاکھ لوگوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

کرونا کے بارے میں تشویش اور خوف سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے تو اب تک اس وائرس میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد تقریباً 83 ہزار اور ہلاکتیں 2800 کے لگ بھگ ہیں۔

کرونا وائرس کیسے پھیلا؟

ابھی تک کوئی بھی یقین سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ کرونا وائرس نے کیسے اپنی ہیئت تبدیل کی اور جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کے بعد خطرناک صورت اختیار کر لی۔ اس بارے میں مختلف کہانیاں گردش کر رہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ یہ وائرس بعض جنگلی جانوروں میں پایا جاتا ہے۔ چین میں عموماً ہر طرح کے جانور کھا لیے جاتے ہیں۔ اس لیے کسی ایسے ہی جانور کے کھانے سے وہ انسان کو منتقل ہوا۔ کچھ روایتوں میں اس کا تعلق چونٹیاں کھانے والے ایک جنگلی جانور پنگولین سے جوڑا گیا ہے۔ لیکن نیویارک پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک تازہ رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ وائرس چین کی ایک ایسی لیبارٹری سے باہر نکلا جہاں مختلف قسم کے وائرس پر تجربات کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے دو مریضوں کی تصدیق کے بعد ملک میں ماسک نایاب ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک این جی او مفت ماسک تقسیم کر رہی ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے دو مریضوں کی تصدیق کے بعد ملک میں ماسک نایاب ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد میں ایک این جی او مفت ماسک تقسیم کر رہی ہے۔

چین کی بائیو سیفٹی لیباریٹری اور کرونا وائرس

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس لیبارٹری میں تجربات کے لیے جانوروں کو رکھا جاتا ہے۔ قانون کے مطابق وائرس سے متاثرہ جانوروں کو جلا دیا جاتا ہے تاکہ وائرس باہر نہ نکلے، لیکن چونکہ چین میں کرپشن کے واقعات عام ہیں، اور بعض اوقات لیبارٹری کے ملازم کچھ رقم کمانے کے لیے اس طرح کے جانوروں کو چوری چھپے مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں جہاں لوگ اسے پکانے کے لیے خرید لیتے ہیں۔

اس شبہے کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلنے کی خبریں آنے کے بعد چین کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت نے وائرس کی مختلف اقسام پر کام کرنے والی بائیو سیفٹی لیبارٹری کی اپنی سیکیورٹی سخت کرنے کی ہدایت کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اس سے پہلے سارس نامی وائرس بھی بیجنگ کے قریب واقع بائیو سیفٹی لیبارٹری سے نکلا تھا۔ بلکہ اخبار کے بقول، اسے تجرباتی طور پر نکالا گیا تھا کیونکہ اس پر قابو پانے کے انتظامات موجود تھے۔ اس لیے وہ جلد کنٹرول میں آ گیا تھا۔

وائرس پر کام کرنے والی وائرلالوجی کی ایک بائیو سیفٹی لیبارٹری ووہان میں بھی موجود ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں سے وائرس شروع ہوا اور یہی شہر کرونا کا سب سے زیادہ نشانہ بھی بنا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG