رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا وائرس کے 2 کیسز رپورٹ، سندھ اور بلوچستان کے تعلیمی ادارے بند


پاکستان میں کرونا وائرس کے دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ متاثرہ ایک شخص کا تعلق گلگت بلتستان اور ایک کا کراچی سے ہے۔

پاکستان نے کرونا وائرس کے دو کیسز کی تصدیق کی ہے کہ جس کے بعد دو صوبوں میں تعلیمی ادارے بند رکھنے سمیت دیگر اہم اقدامات کیے ہیں۔

کرونا وائرس سے متاثرہ ایک شخص اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے آئسولیشن وارڈ جب کہ دوسرا شخص کراچی کے نجی اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

متاثرہ افراد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ حال ہی میں ایران سے وطن واپس لوٹے ہیں۔

پمز میں زیرعلاج شخص کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے جو کاروباری سلسلے میں ایران آتا جاتا رہا ہے، اور چند دن قبل ہی ایران سے واپسی پر صحت کی خرابی کے باعث راولپنڈی میں ٹھہرا تھا۔

محکمہ صحت سندھ کے ترجمان کے مطابق، کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج 22 سالہ نوجوان یحیٰی جعفری میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

​اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، یحییٰ جعفری اپنے دو دوستوں کے ہمراہ چھ سے نو فروری کو تہران گئے تھے جس کے بعد وہ مشہد اور پھر 20 فروری کو واپس کراچی پہنچے تھے۔

سندھ میں 1500 افراد کی اسکریننگ کا فیصلہ

جمعرات کو سندھ کابینہ نے صوبے میں رہائش پزیر اُن 1500 افراد کی اسکریننگ کا فیصلہ کیا ہے جو حال ہی میں ایران کا سفر کر کے واپس لوٹے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ واحد مریض کی اہلِ خانہ کو بھی احتیاطی طور پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے تاکہ اگر وہ بھی متاثر ہوئے ہیں تو مزید لوگوں کو متاثر نہ کریں۔ تاہم اب تک ایسی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں جس سے ان میں مرض کی تشخیص ہو سکے۔

صوبائی حکومت نے معاملے پر نظر رکھنے کے لیے 25 رکنی ٹاسک فورس بھی بنائی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

اسلام آباد سے وائس آف امریکہ کے نمائندے علی فرقان کے مطابق، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے آئسولیشن وارڈ میں اسکردو سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو داخل کیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے صحت ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ دونوں افراد کا کلینکل معیارات کے عین مطابق خیال رکھا جا رہا ہے، جبکہ مشیر صحت کے مطابق دونوں مریض فی الحال بہتر ہیں۔

اُن کا دعویٰ ہے کہ اس وقت صورتِ حال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور اس بارے میں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

سندھ اور بلوچستان میں تعلیمی ادارے بند

سندھ حکومت نے کرونا وائرس کے پہلے متاثرہ شخص کی تشخیص کے بعد 27 اور 28 فروری صوبے بھر کے تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے اپنے ٹوئٹ میں اعلان کیا کہ سندھ بھر کے تعلیمی ادارے دو روز کے لئے بند رہیں گے۔

بلوچستان کے وزیر تعلیم یار محمد رند نے بھی احتیاطی تدابیر کے طور پر صوبے کے تعلیمی ادارے 15 مارچ تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

بلوچستان حکومت کی طرف سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ میٹرک کے امتحانات کے جاری پرچے ملتوی کیے جارہے ہیں اور ان کے اگلے شڈیول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کرونا وائرس سامنے آنے کے بعد پاکستان نے چین کے علاوہ پڑوسی ملک ایران سے متصل اپنی سرحد بند کر رکھی ہے۔

سفری پابندی

پاکستان نے براہِ راست ایران سے آنے والی تمام پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں سے روزانہ کی بنیاد پر پروازیں تہران، مشہد اور ایران کے دیگر شہروں کو روانہ ہوتی ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے عمرہ ویزہ منسوخ کیے جانے کے اعلان کے بعد اُن مسافروں کو بھی پروازوں سے آف لوڈ کیا گیا جو عمرے کی ادائیگی کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔

بلوچستان کی صورتِ حال

کوئٹہ سے وائس آف امریکہ کے نمائندے مرتضیٰ زہری کے مطابق ہر سال ہزاروں افراد مقدس مقامات کی زیارت کے لیے ایران جاتے ہیں۔ ایران جانے سے پہلے یہ زائرین مری آباد اور ہزارہ ٹاؤن کے علاقوں میں قیام کرتے ہیں۔

ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایک رضا کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 20 فروری سے قبل بڑی تعداد میں زائرین ایران سے کوئٹہ پہنچے تھے۔ ان کے بقول، ایران سے واپس آنے والے ایک شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق کے بعد اُن کے علاقوں مری آباد اور ہزارہ ٹاؤن میں لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

مری آباد میں اس حوالے سے کام کرنے والے رضا کار اب تک ایسے 100 سے زائد زائرین سے معلومات لے چکے ہیں جو حال ہی میں ایران سے واپس آئے ہیں۔ اُن کے بقول تاحال کسی بھی شخص نے اپنی صحت سے متعلق کوئی ایسی شکایت نہیں کی جس سے یہ واضح ہو کہ اُن میں کرونا وائرس کی علامات موجود ہوں۔

یاد رہے کہ پاکستان نے ایران میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کے بعد تفتان کے مقام پر سرحد بند کر رکھی ہے مگر مقامی افراد کو ان زائرین کے حوالے سے تشویش ہے جو قم شہر سے سرحد کی بندش سے قبل ہی کوئٹہ واپس پہنچے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG