رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس عالمی وبا کی شکل اختیار کر رہا ہے، ماہرین صحت کا انتباہ


امراض پر کنٹرول اور روک تھام کے امریکی ادارے نے انتباہ جاری کیا ہے کہ امریکیوں کو تیار رہنا چاہیے کہ کرونا وائرس امریکہ میں بھی پھیل سکتا ہے۔ 

چین میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی ہوئی ہے، لیکن ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں اس کے پھیلنے کے بعد، عالمی سطح پر اس کے وبا کی صورت اختیار کرنے کا خوف زور پکڑ رہا ہے۔

امریکہ کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے ایک عہدیدار نےکہا ہے کہ اس وقت ہم امریکی عوام سے کہہ رہے ہیں کہ وہ توقع رکھیں کہ صورتحال خراب بھی ہو سکتی ہے، جس کے لئے وہ تیار رہیں۔

مرکزی حکومت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے لیے معاملہ یہ نہیں کہ اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا، بلکہ ایسا کب ہو گا۔

امراض پر کنٹرول اور روک تھام کے امریکی ادارے نے منگل کے روز انتباہ جاری کیا ہے کہ امریکیوں کو اس امکان کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ کرونا وائرس امریکہ میں بھی پھیل سکتا ہے۔

نیشنل سینٹر فار امیونائزیشن اینڈ ریسپیریٹری ڈزیز کی ڈائیریکٹر ڈاکٹر، نینسی مینسونیئر کہتی ہیں کہ سوال اب یہ نہیں رہا کہ کیا اس ملک میں ایسا ہو گا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کب ایسا ہو گا۔

ڈاکٹر نینسی کہتی ہیں کہ پبلک ہیلتھ کے عہدیداروں کو یہ علم نہیں ہے کہ یہ شدید ہو گا یا نہیں، لیکن امریکیوں کو روز مرہ زندگی میں ایک جگہ سے دوسری جانب جانے کیلئے تیار رہنا چاہئیے۔ ہم امریکیوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اس کے لئے تیار رہیں۔

منگل کے روز محکمہ ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز نے بھی خبردار کیا ہے۔ سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے محکمے کے وزیر، ایلکس ایم آزر ٹو کا کہنا تھا کہ یہ ممکنہ طور پر عالمی سطح پر صحت کیلئے ایک ایسا چیلنج ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

کرونا وائرس کے حملے سے نمٹنے کیلئے صحت کے مرکزی اور مقامی محکموں کو اپنے عملے کیلئے 300 ملین ماسک درکار ہو نگے، جبکہ ہسپتالوں میں مزید وینٹی لیٹرز چاہئیے ہونگے۔

پیر کے روز، ٹرمپ انتظامیہ نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ڈھائی ارب ڈالر مختص کرنے کی درخواست کی ہے۔

ادھر جنوبی کوریا اور اٹلی کے شمالی علاقوں میں وائرس کو روکنے کیلئے عہدیدار ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔ اٹلی میں فوج کوارنٹائین کیلئے علاقے بنا رہی تھی، سکول بند پڑے ہیں، جبکہ جنوبی کوریا میں شہر میں زندگی رک سی گئی ہے۔

چین سے ہٹ کر دور دراز ملکوں میں کرونا وائرس کی وبا حملہ آور ہوئی ہے، جس سے دنیا بھر کی سٹاک منڈیاں اور سیاسی ادارے خدشات کے شکار ہو گئے ہیں۔ وائرس کے پھیلاؤ نے یورپ اور ایشیا کے امیر ترین ملکوں کے عہدیداروں میں فوری طور پر حرکت میں آنے کا احساس اجاگر کیا ہے۔ ایران جیسا ملک بھی اس کی لپیٹ میں آگیا ہے، جہاں پر وسائل کی کمی ہے۔ تاہم، بہت سے ملک ایسے بھی ہیں جنہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ اس کو روکنے کیلئے کیا کریں۔

اٹلی کےہمسایہ ممالک کروشیا اور آسٹریا میں بھی وائرس کے پہلے مریض سامنے آئے ہیں۔

چین کے شہر، ووہان سے گزشتہ سال دسمبر میں اس وائرس کا پھیلاؤ شروع ہوا۔ چین کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس شہر میں مزید 508 مریض سامنے ہیں، جبکہ 68 افراد اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ چین میں 77658 افراد اس وائرس کا شکار ہوئے اور 2663 افراد اس کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG