رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: تھائی لینڈ میں بندروں کا سڑکوں پر راج


بنکاک کی سڑکوں پر بندروں کے غول کے غول کھانے پینے کی چیزوں پر جھپٹ رہے ہیں۔

کرونا وائرس کی وبا کے پھیلنے کے بعد تھائی لینڈ میں سیاحوں کے ایک دم غائب ہو جانے کے بعد جہاں انسان پریشان ہیں تو وہیں بندر بھی بے حال ہیں۔

بنکاک شہر سے شمال مشرق میں واقع لوپ بوری سے مقامی شہری کی جانب سے انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سینکڑوں بندر سڑکوں پر خوراک کے لیے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاح ان بندروں کو خوراک اور دیگر اشیا کھانے کو دیتے ہیں۔ سیاحوں کے ایک دم غائب ہو جانے سے یہ بندر بھوک سے بے حال ہیں اور ایسے میں خوراک کی چھوٹی چھوٹی اشیا پر ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔

جس شہری نے یہ ویڈیو پوسٹ کی ہے اس کا نام سسلوک رتنا چائے ہے۔ انہوں نے مقامی انگریزی نیوز ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں اس وقت گرمیاں ہیں، ہم یہاں بہت زیادہ سیاح دیکھتے ہیں۔ لیکن وبا کی وجہ سے یہاں بہت کم سیاح آئے ہیں اور مارکیٹیں تقریباً بند ہیں۔ اس لیے مقامی مندر میں ان بندروں کے لیے کھانا چھوڑنے والے سیاح بہت کم ہو گئے ہیں۔’’

بندروں کے لیے بنائی گئی مقامی تنظیم لاپ بوری منکی فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ان بندروں کے ہر گروہ میں پانچ سو سے زائد بندر ہیں اور یہ پیٹ بھرنے کے لیے ہر چیز چرا رہے ہیں۔ جن میں زیورات سے لے کر ٹوپیاں اور سن گلاسز بھی شامل ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی اتنی بڑی تعداد میں بندر سڑکوں پر نہیں دیکھے۔

بنکاک پوسٹ کے مطابق فروری کے مہینے میں کرونا وائرس کے پھیلنے کے سبب ملک میں سیاحوں کی آمد میں 44 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

اخبار کے مطابق اس برس ملک میں سیاحوں کی آمد پچھلے سال کی تعداد تقریباً چار کروڑ سے گر کر محض تین کروڑ تک رہ جانے کا خدشہ ہے۔

تھائی لینڈ کی معیشت کے لیے سیاحت کا شعبہ بہت اہم ہے۔ سیاحت کا شعبہ تھائی لینڈ کی مجموعی قومی پیداوار کا 11 فیصد ہے۔

اخبار کے مطابق پچھلے برس تھائی لینڈ کی جی ڈی پی کی شرح نمو پانچ برس میں سب سے کم ہو کر محض 2.4 فیصد رہ گئی ہے۔ اور اس برس مزید گرنے کا خدشہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG