رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا کی وبا اور چینی معیشت


عالمی اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ کرونا کی وبا چین اور خطے کے ملکوں کی اقتصادی پیداوار پر گہرے منفی اثرات ڈالے گی۔

عالمی بنک نے پیر کے روز ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کرونا کی وبا چین اور ایسٹ ایشیا پیسفک خطے کے ملکوں کی اقتصادی پیداوار پر گہرے منفی اثرات ڈالے گی اور مشرقی ایشیا بحر الکاہل کے ان ملکوں میں اس سال شرح نمو دو اعشاریہ ایک فیصد ہوسکتی ہے، جبکہ دو ہزار انیس میں یہ شرح پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کرونا کی وبا دو ہزار اکیس تک چلتی ہے تو پھر یہ شرح نمو اعشاریہ پانچ فیصد تک گر جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق، چین کی شرح نمو بھی گزشتہ سال کی چھہ اعشاریہ ایک فیصد کے مقابلے میں اس سال گر کر دو اعشاریہ تین فیصد تک آ جائے گی اور اگر وبائی صورت حال مزید بگڑی تو یہ شرح نمو صفر اعشاریہ ایک تک گر سکتی ہے۔

تاہم، ورلڈ بنک کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار اور ممتاز ماہر معاشیات شاہد جاوید برکی اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ورلڈ بنک میں یہ رجحان یا مائینڈ سیٹ ہے کہ وہ آئندہ کے تخمینوں کے بارے میں نسبتا ً مثبت اندازے دیتے ہیں، جبکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت جو صورت حال ہے اور معاشی سرگرمیوں میں جو سست روی ہے اسکے سبب چین میں ہو سکتا ہے کہ شرح نمو صفر ہو جائے یا منفی میں بھی جا سکتی ہے، یعنی ان کی معیشت سکڑ سکتی ہے۔

شاہد جاوید برکی کا کہنا تھا کہ چین کی معیشت کا ایک بڑا حصہ مغرب سے جڑا ہوا ہے اور امریکہ سمیت اس وقت مغرب کے دوسرے ملکوں میں کرونا کے سبب معاشی سرگرمیاں تقریباً رکی ہوئی ہیں۔ اور بڑی بڑی سپلائی چین جہاں چینی مال کی کھپت ہوتی ہے وہ اسوقت یہ مال لینے کے قابل نہیں ہیں۔

انہوں کہا کہ اسوقت دنیا تیزی سے کساد بازاری کی جانب جا رہی ہے جس سے بچنا بہت مشکل ہو گا۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا چین کی اقتصادی سرگرمیوں میں سست روی کے سبب پاکستان کے ساتھ سی پیک کے منصوبے بھی متاثر ہو سکتے ہیں انہوں کہا کہ سی پیک سے قطع نظر پاکستانی معیشت اس طرح چینی معیشت سے جڑی ہوئی نہیں ہے جیسے بھارتی معیشت امریکہ سے جڑی ہوئی ہے اسلئے پاکستانی معیشت پر چینی معیشت کی سست روی کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ رہ گئ بات سی پیک کی تو وہ پاکستان سے زیادہ خود چین کے لئے اہم ہے اس لئے وہ اس پر ہرگز اثر نہیں پڑنے دے گا۔

انہوں نے کہا کہ 1980 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ چینی معیشت اتنی سست روی کا شکار ہو گی۔

قبل ازیں، ورلڈ بنک کا تخمینہ تھا کہ مشرقی ایشیا بحر الکاہل کے خطے میں ہونے والی معاشی سرگرمیوں کے نتیجے میں دو ہزار بیس میں ساڑھے تین کروڑ لوگ خط غربت سے اوپر آسکیں گے۔ لیکن اب ورلڈ بنک کا تخمینہ ہے کہ اگر کرونا کی وبا اسی طرح جاری رہی تو مزید کوئی ایک کروڑ دس لاکھ لوگ خط غربت کی سطح سے نیچے چلے جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG