رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس جنوبی ایشیا کے لیے ایک کثیر الجہت چیلنج


جنوبی ایشیا میں جہاں دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی رہتی ہے اس وقت کرونا وائرس کے ایسے کثیر الجہت چیلنج سے نبرد آزما ہے جس کے اثرات ملکوں کی اندرونی ترقی اور خطے پر مرتب ہوں گے۔

صحت عامہ اور لوگوں کے روزگار کی حفاظت کے ساتھ ساتھ یہ سنگین بحران ایک موقع بھی پیدا کر رہا ہے کہ خطے کے ممالک باہمی اقتصادی تعاون کے متعلق سوچ بچار کریں۔ ان خیالات کا اظہار خطے سے شرکت کرنے والے اقتصادی اور معاشی امور کے ماہرین نے وڈرو ولسن سینٹر کے منعقدہ ایک آن لائن مباحثے میں کیا۔

کرونا وائرس بحران نے خطے کو ایسے وقت میں آن لیا ہے جب جنوبی ایشیا میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور اس میں موجود ممالک اقتصادی شرح کی مختلف رفتار کے ساتھ ترقی کر رہے تھے۔ خطےمیں امن و سلامتی کے گھمبیر مسائل بھی بدستور برقرار ہیں۔

ڈاکٹر اعظم چوہدری نے جو پاکستان کے لاہور اسکول آف اکنامکس میں پروفیسر کہا ہے کہ اقتصادی کارروائیوں کے اچانک جانے سے پاکستان کی معاشی پیداوار کی شرح میں تین فیصد کم ہوگی اور لاکھوں ملازمتوں کے مواقع ختم ہونے کی صورت میں غربت اور معاشرتی عدم توازن مزید بگڑے گا، جس کے نتیجے میں جرائم میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

خطے کے ممالک میں اقتصادی اور تجارتی تعاون کے حوالے سے، انہوں نے کہا کہ
افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارت کے علاوہ وسطی ایشیا سے افغانستان کے ذریعے پاکستان اور پھر بھارت تک اقتصادی مواقع موجود ہیں۔ لیکن، ابھی ان کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چین، جس نے پاکستان میں بھاری سرمایہ کر رکھی ہے، خطے میں اقتصادی صورتحال کے مستقبل کے بارے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔ اس کے برعکس، بھارتی ماہر ڈاکٹر ایلا پٹنیک نے کہا کہ نئی دہلی نہیں چاہے گا کہ چین اس بحران کا فائدہ اٹھا کر خطے میں سرمایہ کاری اور اپنا اثر و رسوخ بڑھائے۔

پروفیسر پٹنیک، جو کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک فائنینس اینڈ پالیسی سے منسلک ہیں، نے کہا کہ بھارت کی یہ کوشش ہوگی کہ کرونا وائرس کے چین سے پھیلنے کے بعد کے حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بین الاقوامی سرمایہ کاری کو چین کی بجائے بھارتی اقتصادی شعبوں میں لائے۔ ان کے مطابق، کوڈ نائنٹین کی وجہ سے اندرونی سطح پر بھارت کی ترقی کی رفتار منفی ایک تک سکڑ سکتی ہے۔

افغانستان سے شرکت کرتے ہوئے، اقتصادی ماہر ڈاکٹر عمر جویا اور بیرونی انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر نظیر کبیری نے کہا کہ کرونا بحران نے افغانستان کی مشکلات میں کہیں زیادہ اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ ملک پہلے ہی امن اور سلامتی کے پیچیدہ چیلنجز اور سیاسی عدم استحکام سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی بجٹ کا 60فیصد حصہ بیرونی امداد پر منحصر ہے۔
افغان ماہرین نے کہا کہ خطے میں تجارت کی راہ میں رکاوٹیں بھی انکے ملک کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر افغانستان سے پاکستان درآمدات پر پابندی کا ذکر کیا اور کہا بہت سارے پیچیدہ مسائل کی وجہ سے اقتصادی ترقی کی راہ میں مسائل کا سامنا ہے۔

وڈرو ولسن میں قائم ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور ساؤتھ ایشیا کے ایسوسی ایٹ، مائیکل گوگلمن نے مباحثے کی میزبانی کی اور ماہرین سے سے مختلف سوالات کیے۔

مباحثے میں شرکت کرتے ہوئے، بنگلہ دیشی ماہر ڈاکٹر احسن منصور نے، جو ڈھاکہ میں پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ہیں، کہا کہ ان کا ملک ایک صحت مند رجحان کے ساتھ ترقی کر رہا تھا۔ لیکن، کوویڈ نائنٹین کی وبا کے پھیلنے کی وجہ سے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کا روزگار ختم ہوگیا ہے اور اب ملک میں غربت کی شرح بڑھے گی۔

خطے میں اقتصادی تعاون کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ بھارت کو بنگلہ دیش میں چینی سرمایہ کاری پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین کی طرف سے دوطرفہ بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری سے متعلق ملکوں کو غور سے سوچنا چاہیے، تاکہ اس سے مسائل پیدا نہ ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG