رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس: ایشیائی ملکوں کی اقتصادی ترقی میں نمایاں کمی کا خدشہ


فائل فوٹو

ایسے میں جب کہ دنیا کے دوسرے حصوں کی طرح جنوب ایشیائی خطے میں بھی لاک ڈاؤن ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے، وہاں کے ملکوں میں اس سال معاشی شرح نمو چار عشروں کے بعد پہلی بار کمترین سطح پر رہے گی۔

وائس آف امریکہ کی نامہ نگار انجنا پسریچا نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ عالمی ادارے کی ایشیائی ملکوں کی اقتصادی صورت حال پر مرکوز رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ امکان یہ ہے کہ خطے میں شرح نمو گر کر ایک اعشاریہ آٹھ سے لیکر دو اعشاریہ آٹھ فیصد تک رہے گی۔ جب کہ چھ ماہ قبل یعنی کرونا وائرس کی وبا سے قبل تخمینہ تھا کہ شرح نمو چھ اعشاریہ تین فیصد رہے گی۔

یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں لاکھوں لوگوں کو، جہیں غربت کی لکیر سے اوپر لایا گیا تھا، وہ ساری کوششیں اکارت جائیں گی۔

توقع ہے کہ جنوبی ایشیا کے کچھ ممالک کی شرح نمو بہت کم رہے گی جب کہ ماہرین کے مطابق بعض ملکوں میں کساد بازاری بھی ہو سکتی ہے۔

عالمی بینک نے خطے کے ان تمام ملکوں سے کہا ہے کہ وہ بے روزگاروں کی مدد کریں اور کاروباری لوگوں کی بھی ممکنہ حد تک مدد کے لئے اقدامات کریں۔

ہر چند کہ جنوبی ایشیا کے ملکوں میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد دنیا کے دوسرے خطوں کی نسبت کم ہے۔ لیکن خطے کے زیادہ تر ملکوں نے احتیاط کے طور پر لاک ڈاؤن کیا ہوا ہے۔

ان ملکوں کی معیشتوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز ماہر معاشیات اور شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ظفر بخاری نے کہا کہ ابھی تو یہ محض تخمینے ہیں۔ حتمی طور پر ابھی کچھ کہنا ممکن نہیں کہ اصل صورت حال کیا بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ تو طے کہ اس خطے میں، جہاں دنیا کی کوئی ایک چوتھائی آبادی رہتی ہے، دوسرے کوارٹر یعنی جون تک بڑی معاشی سرگرمیاں موجودہ تناظر میں ممکن نظر نہیں آتیں۔

انہوں کہا کہ جنوبی ایشیا کے بیشتر ممالک ایسے ہیں، جہاں زراعت اور سروسز سیکٹر پر معیشتوں کا زیادہ انحصار ہے۔ وہ اس وبا کے اختتام پر صنعتوں پر انحصار کرنے والے ملکوں کی نسبت زیادہ تیزی سے بحالی کی طرف جا سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG