رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی ویزے کی بندش سے ہزاروں چینی نوجوانوں کا روزگار داؤ پر


کورٹینی ہوانگ

چین سے تعلق رکھنے والی، کورٹنی ہوانگ 13 برس قبل نرسنگ کی تعلیم کے لیے امریکہ آئی تھیں۔ وہ امریکہ کی چاہت میں گرفتار ہو چکی ہیں اور امریکی شہری بننے کی خواہش مند ہیں۔

لیکن، کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے معاملے پر جب گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی شہریوں اور رہائشیوں کے امریکہ میں داخلے پر بندش عائد کر دی ہے، ہوانگ کے سارے خواب، روزگار، مستقبل اور شہری بننے کی خواہش سب داؤ پر لگ گئے ہیں۔

جوں جوں ان بندشوں میں سختی برتی جا رہی ہے، ہوانگ کا مستقبل خطرے میں پڑتا جا رہا ہے۔

ہوانگ کے بقول، ''میں واقعی خوف زدہ ہوں۔ میرا پیچھے بہت کچھ ہے۔ اگر میں واپس نہ گئی تو یہ میرے لیے بہت ہی دشوار معاملہ ہو گا''۔

امریکہ نے تین فروری سے چین میں ویزوں کے اجرا کا کام معطل کر دیا تھا۔ اس اقدام پر نظر ثانی نہیں کی گئی اور ابھی یہ بات واضح نہیں کی یہ تعطل کب ختم ہو گا۔ اس کے نتیجے میں ان سینکڑوں چینی شہریوں کا مستقبل خطرے میں ہے جو ورک ویزا حاصل کرنے کے خواہش مند تھے، اس پابندی سے ان کا روزگار چھننے والا ہے۔

جنوری کے اواخر میں اپنے والدین کے ساتھ نئے قمری سال کی تعطیلات منانے کے لیے، ہوانگ چین گئی تھیں۔ کیلیفورنیا میں انھیں نئی نوکری مل چک تھی اور نیا ویزا لینے کے بعد وہ جب شنگھائی میں امریکی قونصل خانے پہنچیں، اور ان کا کام ہونے ہی والا تھا کہ سب کو پاسپورٹ واپس کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

کئی ہفتے کی تگ و دو اور مشرقی چین میں اپنے والدین کے ساتھ کچھ دن گزارنے کے بعد ہوانگ تھائی لینڈ چلی گئی ہیں۔ اب انھیں 14 روز تک کے لازمی قرنطینہ میں رہنے کے بعد بنکاک میں امریکی سفارت خانے سے ویزا ملنے کی امید ہے۔

ہوانگ اگرچہ چین میں پیدا ہوئیں اور پلی بڑھیں، لیکن ان کی پوری زندگی کیلی فورنیا کے شہر اوکلینڈ میں ہی گزری ہے، جہاں ان کا ایک اپارٹمنٹ، کار، دوست اور روزگار ہے۔ انھوں نے مسیحیت اختیار کر لی ہے، اور کھل کر اپنے احساسات کا اظہار کرتی ہیں، اب ان کی اپنائیت امریکہ سے وابستہ ہے۔

ہوانگ نے کہا ہے کہ ''مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری اصل جگہ یہی ہے۔آزادانہ اظہار رائے اور مذھبی عقائد پر عمل پیرا ہونا''۔ وہ کہتی ہیں کہ صاف ہوا، خواتین کے لیے زندگی گزارنے کے بہتر مواقع اور آزادانہ سماجی ماحول انہیں بھاتا ہے۔

ہوانگ نے ٹیکساس سے نرسنگ کی ڈگری حاصل کی؛ پھر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے بایو انجنئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری لی۔ اب وہ ایم بی اے مکمل کرنے والی ہیں، جب کہ ان کا دھیان مستقل رہائش اختیار کرنے کی جانب لگا ہوا ہے۔

امریکی قانون کے مطابق، گریجوایشن کے بعد نیا روزگار شروع کرنے اور امریکہ میں رہائش کے لیے، غیر ملکی طالب علموں کو 90 دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی شخص مئی تک ووہان میں پھنس کر رہ گیا ہو تو نہ صرف اس کا روزگار داؤ پر ہو گا بلکہ امریکہ میں اور کوئی روزگار بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

ایسا ہی معاملہ ٹام نامی ایک شخص کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ میں ان کو 70000 ڈالر سالانہ کا روزگار ملا ہوا ہے۔ وہ فوری جانا چاہتے ہیں، لیکن یہ معاملہ مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG