رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ میں ایران اور چین پر نکتہ چینی


امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو انسانی حقوق رپورٹ برائے 2019 کے اجرا کے موقع پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ 11 مارچ 2020

امریکہ نے دنیا بھر کی جابر اور آمریت پر مبنی حکومتوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنا اقتدار بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ استبدادی حکومتوں کے اہل کار اپنے ہی عوام کے حقوق کچلنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسا سماجی اور اقتصادی ماحول پیدا کرنے کے بھی ذمہ دار ہیں جس میں بدعنوانی، کرپشن، پرتشدد تنازعات اور دہشت گردی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والی 2019 سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں ایران کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہان گزشتہ سال نومبر میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عوامی مظاہروں کا ایک بڑا سلسلہ شروع ہوا، جسے دبانے کے لیے حکومتی عہدے داروں نے جبر و استبداد سے کام لیا۔ اس دوران بین الاقوامی اور مقامی سطح پر انٹرنیٹ رابطے عمومی طور پر بند رکھے گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، مظاہروں کے دوران تقربیاً 1500 افراد ہلاک ہوئے جب کہ 8600 کے لگ بھگ لوگوں کو پکڑا گیا۔ انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسی کوئی علامات نہیں ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ حکومت مظاہرین کی ہلاکتوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائے گی اور اس کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گی۔

رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ ایران میں انصاف کے بین الاقوامی تقاضوں اور معیارات کی پروا نہیں کی جاتی اور لوگوں کو انصاف نہیں مل پاتا۔ امریکہ محکمہ خارجہ نے اپنی رپورٹ میں کہ بھی کہا ہے کہ ایرانی حکومت شام کے صدر بشار الاسد کی فوجی مدد اور ایران نواز ملیشیا گروپس کے ذریعے شام، عراق اور یمن میں وہاں کے لوگوں کے انسانی حقوق پامال کر رہی ہے۔

رپورٹ میں چین کے متعلق کہا گیا ہے کہ کمیونسٹ پارٹی کے عہدے داروں نے سنکیانگ کی اقیلتی یغور مسلم کمیونٹی کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی اپنی مہم تیز کر دی ہے۔ ان پر گہری نظر رکھنے کے لیے ہائی ٹیک آلات استعمال کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چینی حکام نے مسلمانوں کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کچلنے کے لیے دس لاکھ سے زیادہ افراد کو اصلاحی کیمپوں میں رکھا ہوا ہے۔ سنکیانگ کے یغور مسلم اور تبتی اقلیت کی آزادی اظہار، مذہبی رسومات کی ادائیگی، اور اپنے ثقافتی اجتماعات کے انعقاد کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ چین میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، حکومت کی جانب سے بلاجواز گرفتاریاں، تشدد، ایذا رسانی، قیدیوں کے لیے غیر انسانی حالات، صحافیوں، وکیلوں، بلاگرز، اسکالرز اور حکومت مخالفین کی گرفتاریاں شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین شمالی کوریا سے پناہ کی تلاش میں آنے والوں کو زبردستی شمالی کوریا کے حکام کے حوالے کر دیتا ہے۔

انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ میں سعودی عرب کا ذکر کرتے ہوئے شفافیت اور جوابدہی کے نظام پر تحٖفظات کا اظہار کرتے ہوئے 2018 میں ترکی میں واقع سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خشوگی کے قتل کا حوالہ دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG