رسائی کے لنکس

'کرونا وائرس جنوب ایشیائی ممالک کے لیے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے'

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

کرونا وائرس کی عالمی وبا دنیا کے تمام ممالک اور خطّوں کے لیے صحتِ عامہ کا ایک غیر معمولی چیلنج بن کر ابھری ہے۔ اگرچہ جنوبی ایشیا میں اس کا پھیلاؤ دیگر خطوں کے مقابلے میں فی الحال کم ہے لیکن ماہرین صحت اور تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ اس خطے میں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین صحت تنبیہ کر چکے ہیں کہ اگر جنوبی ایشیا میں یہ وبا تیزی سے پھیلی تو اس سے نمٹنا کسی ایک ملک کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔

اگرچہ جنوبی ایشیا کے ممالک کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے انفرادی طور پر اقدامات کر رہے ہیں۔ لیکن ماہرین صحت اور بین الاقوامی امور پر نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ اس عالمگیر وبا سے نمٹنے لیے جنوبی ایشیا کے ممالک کو باہمی اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کی مدد اور باہمی اقدامات کرنا ہوں گے۔

خیال رہے کہ کرونا وائرس سے جنوبی ایشیائی ممالک بشمول پاکستان اور بھارت میں اب تک 1900 سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جب کہ کم از کم 25 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

حالیہ صورتِ حال پر لاہور کی یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرام کہتے ہیں کہ عالمی سطح پر کرونا وائرس کا پھیلاؤ تشویش ناک ہے، جس کے جنوبی ایشیا میں بھی سنگین مضمرات ہو سکتے ہیں۔

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

جنوبی ایشیائی ممالک میں اسکریننگ کم

ان کے بقول اگرچہ اب تک جنوبی ایشیائی ممالک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد متعدد ممالک کی نسبت بہت کم ہے۔ لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں اسکریننگ کم ہو رہی ہے۔

ڈاکٹر جاوید اکرام کے بقول یہاں صرف ان افراد کی ہی اسکریننگ ہو رہی ہے جن میں کرونا وائرس کی علامات موجود ہوں۔ اگر مشتبہ افراد کی بڑے پیمانے پر اسکریننگ کی جائے تو کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر اکرام نے کہا کہ اس وقت جنوبی ایشیا کے تقریبا تمام ملکوں میں کرونا وائرس کی تشخص کے لیے ٹیسٹنگ کٹس اور دیگر طبی سامان کی کمی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان ممالک میں وینٹی لیڑز کی تعداد بھی کم ہے۔

انہوں نے پاکستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صرف 1800 کے قریب وینٹی لیٹرز ہیں جو 22 کروڑ سے زائد آبادی کے لیے ناکافی ہیں۔ ڈاکٹر اکرام کے مطابق جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک میں ایسی ہی صورتِ حال ہے۔

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

علاقائی ٹاسک فورس کی تشکیل وقت کی ضرورت

ڈاکٹر جاوید اکرام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس ایک عالمی وبا ہے۔ اسے روکنے کے لیے عالمی سطح پر تعاون ضروری ہے۔ اس وبا سے نمٹنے کے لیے جنوبی ایشیائی ممالک کی تعاون تنظیم (سارک) میں شامل ممالک کو فوری طور پر ایک علاقائی ٹاسک فورس تشکیل دینی چاہیے۔

ڈاکٹر اکرام کے مطابق کرونا وائرس ایک ایسی وبا ہے جس سے کسی ملک کے لیے انفرادی طور پر نمٹنا ممکن نہیں۔ اس لیے سارک ممالک کی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ان کے بقول جنوبی ایشیا کے ممالک چین اور جنوبی کوریا کے تجربات سے سیکھ سکتے ہیں۔ کیوں کہ وہاں اب کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو کامیابی سے کنٹرول کر لیا گیا ہے۔

کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون ممکن ہے؟

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 15 مارچ کو سارک ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی فنڈ قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے ایک کروڑ ڈالرز کا اعلان کیا تھا۔

اس فنڈ کے لیے اب تک سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان، مالدیپ اور بھوٹان نے رقم مختص کر دی ہے اور یہ فنڈ ایک کروڑ 80 لاکھ ڈالر سے زائد ہو گیا ہے۔ لیکن پاکستان نے اب تک اس فنڈ کے لیے کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس فنڈ کو سارک کے تحت کیا جانا چاہیے۔

کرونا کا خوف، دنیا بھر کی شاہراہیں سنسان

بھارت میں بدھ سے 21 روز کے لیے نیا لاک ڈاؤن شروع ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی میں بدھ کی صبح سڑکوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی جو سڑک سے گزرنے والے ہر فرد سے تفتیشن کرتی رہی اور بلاوجہ سفر کرنے والوں کو واپس گھر بھیج دیا گیا۔ پولیس نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر بھی زور دیا۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
1/15 بھارت میں بدھ سے 21 روز کے لیے نیا لاک ڈاؤن شروع ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی میں بدھ کی صبح سڑکوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی جو سڑک سے گزرنے والے ہر فرد سے تفتیشن کرتی رہی اور بلاوجہ سفر کرنے والوں کو واپس گھر بھیج دیا گیا۔ پولیس نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر بھی زور دیا۔
 
 
نئی دہلی میں تمام&nbsp; ٹریفک معطل رہا ایسے میں ضرورت کا سامان خریدنے کے لئے لوگوں کو کئی کئی میل تک پیدل چلنا پڑا۔
2/15 نئی دہلی میں تمام  ٹریفک معطل رہا ایسے میں ضرورت کا سامان خریدنے کے لئے لوگوں کو کئی کئی میل تک پیدل چلنا پڑا۔
بدھ کو نئی دہلی میں واقع چھوٹے بڑے ہوٹلز بھی مکمل طور پر بند رہے جس سے بے گھر افراد کو سب سے زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
3/15 بدھ کو نئی دہلی میں واقع چھوٹے بڑے ہوٹلز بھی مکمل طور پر بند رہے جس سے بے گھر افراد کو سب سے زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
جنوبی ایشیا سے باہر واقع یورپی دنیا کے تمام شہر مسلسل لاک ڈاؤن ہیں جب کہ فضائی آپریشن معطل ہونے کے ائیر پورٹس پر بھی سناٹے کا راج ہے۔ برسلز کا مصروف ترین ائیرپورٹ بھی ویرانی کا منظر پیش کررہا ہے۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
4/15 جنوبی ایشیا سے باہر واقع یورپی دنیا کے تمام شہر مسلسل لاک ڈاؤن ہیں جب کہ فضائی آپریشن معطل ہونے کے ائیر پورٹس پر بھی سناٹے کا راج ہے۔ برسلز کا مصروف ترین ائیرپورٹ بھی ویرانی کا منظر پیش کررہا ہے۔
 
 
پاکستان کے دو صوبوں پنجاب اور سندھ میں ، مکمل جب کہ باقی دو صوبوں میں جزوی لاک ڈاؤن جاری ہے۔ تمام مارکیٹس اور عوامی مقامات بند ہیں جب کہ راولپنڈی کی سڑکوں پر پولیس اور فوج کا گشت جاری ہے۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
5/15 پاکستان کے دو صوبوں پنجاب اور سندھ میں ، مکمل جب کہ باقی دو صوبوں میں جزوی لاک ڈاؤن جاری ہے۔ تمام مارکیٹس اور عوامی مقامات بند ہیں جب کہ راولپنڈی کی سڑکوں پر پولیس اور فوج کا گشت جاری ہے۔
 
 
فرانس کے دارالحکومت پیرس بھی لاک ڈاؤن ہے جب کہ اس دوران شہری گھروں میں محصور رہتے ہوئے مختلف طریقوں سے وقت گزار رہے ہیں۔ ایک مقامی گلوکار اپنے اپارٹمنٹ کی کھڑی پر کھڑا ہو کر گنگنا رہا ہے جب کہ اس کے پڑوسی اس کی جانب متوجہ ہیں۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
6/15 فرانس کے دارالحکومت پیرس بھی لاک ڈاؤن ہے جب کہ اس دوران شہری گھروں میں محصور رہتے ہوئے مختلف طریقوں سے وقت گزار رہے ہیں۔ ایک مقامی گلوکار اپنے اپارٹمنٹ کی کھڑی پر کھڑا ہو کر گنگنا رہا ہے جب کہ اس کے پڑوسی اس کی جانب متوجہ ہیں۔
 
 
پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی حب کراچی میں پولیس اہلکار جگہ جگہ تعینات ہیں اور سڑک سے گزرنے والے افراد کو پوچھ گچھ کے بعد ہی آنے جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
7/15 پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی حب کراچی میں پولیس اہلکار جگہ جگہ تعینات ہیں اور سڑک سے گزرنے والے افراد کو پوچھ گچھ کے بعد ہی آنے جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔
 
 
برازیل کے شہر ساؤ پولو میں لاک ڈاؤن کے سبب شہر کے وسیع و عریض پل پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہاں گزشتہ روز لاک ڈاؤن کی ابتدا ہوئی تھی۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
8/15 برازیل کے شہر ساؤ پولو میں لاک ڈاؤن کے سبب شہر کے وسیع و عریض پل پر سناٹا چھایا ہوا ہے۔ یہاں گزشتہ روز لاک ڈاؤن کی ابتدا ہوئی تھی۔
 
 
فرانس کے شہر کانز ہرسال ہونے والے کانز فلم فیسٹیول کے لیے مشہور ہے جس میں دنیا بھر کے فنکار اور اہم شخصیات شرکت کرتی ہیں مگر ان دنوں یہاں بھی ویرانی چھائی ہوئی ہے اور لوگ پیدل سفر پر مجبور ہیں۔<br />
<br />
&nbsp;
9/15 فرانس کے شہر کانز ہرسال ہونے والے کانز فلم فیسٹیول کے لیے مشہور ہے جس میں دنیا بھر کے فنکار اور اہم شخصیات شرکت کرتی ہیں مگر ان دنوں یہاں بھی ویرانی چھائی ہوئی ہے اور لوگ پیدل سفر پر مجبور ہیں۔

 
مشرق وسط کے ملک شام میں بھی دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح تعلیمی ادارے بند ہیں۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
10/15 مشرق وسط کے ملک شام میں بھی دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح تعلیمی ادارے بند ہیں۔
 
 
اٹلی میں کرونا وائرس سے بڑے پیمانے پر اموات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ شہر کے بیشتر قبرستان بھر چکے ہیں اور ان میں مزید لوگوں کی تدفین کی گنجائش نہیں۔
<div>&nbsp;</div>
11/15 اٹلی میں کرونا وائرس سے بڑے پیمانے پر اموات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ شہر کے بیشتر قبرستان بھر چکے ہیں اور ان میں مزید لوگوں کی تدفین کی گنجائش نہیں۔
 
اٹلی کے شہر میلان میں بھی بڑی تعداد میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین جاری ہے۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
12/15 اٹلی کے شہر میلان میں بھی بڑی تعداد میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین جاری ہے۔
 
 
کراچی کے مصروف ترین علاقوں میں سے ایک علاقے ٹاور کی اطرافی سڑکیں ویران ہوگئی ہیں جب کہ عام دنوں میں یہاں گھنٹوں ٹریفک جام رہتا تھا۔
<div>&nbsp;</div>
13/15 کراچی کے مصروف ترین علاقوں میں سے ایک علاقے ٹاور کی اطرافی سڑکیں ویران ہوگئی ہیں جب کہ عام دنوں میں یہاں گھنٹوں ٹریفک جام رہتا تھا۔
 
کراچی کی طرح ہی فیشن کے لیے اٹلی کے مشہور شہر میلان کا موٹر وے بھی&nbsp; اب ٹریفک کا منتظر رہتا ہے۔<br />
&nbsp;
<div>&nbsp;</div>
14/15 کراچی کی طرح ہی فیشن کے لیے اٹلی کے مشہور شہر میلان کا موٹر وے بھی  اب ٹریفک کا منتظر رہتا ہے۔
 
 
سعودی عرب میں بھی کرونا کے خوف سے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کئے گئے ہیں اور لوگوں کو صرف ضرورت کا سامان خریدنے کے لئے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت ہے۔
15/15 سعودی عرب میں بھی کرونا کے خوف سے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کئے گئے ہیں اور لوگوں کو صرف ضرورت کا سامان خریدنے کے لئے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت ہے۔
Previous slide
Next slide

اس معاملے پر تجزیہ کار زاہد حسین کہتے ہیں کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا فنڈز کے قیام کا اعلان مثبت قدم ہے۔ لیکن کرونا وائرس کے باعث صحت عامہ کے مسائل اور سماجی و اقتصادی اثرات سے نمٹنے کے لیے سارک ممالک کے درمیان فوری تعاون کی ضرورت ہے۔

زاہد حسین کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے اختلافات کی وجہ سے ان دو ملکوں کے درمیان سیاسی اور سفارتی فاصلے زیادہ ہیں جو علاقائی تعاون کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ان کے بقول خطے کے بڑے ممالک کے تنازعات کی وجہ سے اقتصادی اور تجارتی تعلقات نا ہونے کے برابر ہیں۔

بھارتی فوج کے سابق میجر جنرل اور تجزیہ کار دپنکر بینرجی کا کہنا ہے کہ سارک ممالک میں کسی بھی ملک کے پاس مناسب اور ضروری سہولتیں نہیں ہیں۔ نا ہی ان کے پاس طبی ساز و سامان موجود ہے۔ ایسے حالات میں جہاں ایک مشترکہ فنڈ ضروری ہے وہیں ان ممالک کے صحت کے شعبوں میں تعاون کے لیے کوئی طریقہ کار وضع کرنا بھی ضروری ہے۔

دپنکر بینرجی کے مطابق اس وقت سیاسی معاملات کو ایک طرف رکھ کر کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے تعاون پر توجہ مرکوز کرنا ہو گی۔

لیکن زاہد حسین کو فی الحال دونوں ملکوں میں تعاون کی کوئی راہ نہیں دکھ رہی۔ ان کے مطابق سارک کانفرنس کا انعقاد پاکستان میں ہونا تھا جو بھارت کے انکار کی وجہ سے نہیں ہو سکا ہے۔

زاہد حسین کہتے ہیں کہ سارک ممالک کو اپنے سیاسی اختلافات الگ رکھ کر مشترکہ چیلنجز سے نمٹنا ہو گا۔ لیکن اس کے لیے خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے بارے میں اپنے رویوں اور سوچ کو بھی تبدیل کرنا پڑے گا۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG