رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت میں لاک ڈاؤن نرم، تاجر شٹر کھولنے سے ہچکچا رہے ہیں


نئی دہلی کی ایک سبزی منڈی کا منظر، جہاں کرونا وائرس کے خوف سے دکانداروں اور خریداروں کی تعداد بہت کم ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز ریڈیو پر اپنے خطاب میں لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کرونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کریں۔ بھارت میں لاک ڈاؤن نافذ ہوئے ایک مہینے سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔

انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اس مہلک وائرس کے خلاف لڑائی میں استقامت کا مظاہرہ کریں۔

ایک ارب 30 کروڑ آبادی رکھنے والی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیر اعظم نے لوگوں سے کہا کہ وہ ماسک پہنیں، سماجی فاصلے قائم رکھیں، اور عوامی مقامات پر تھوکنے سے احتیاط کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں اس وائرس کے خلاف لڑنے کی سب سے مؤثر دوا یہی احتیاطی تدابیر ہیں۔

بھارت بتدریج لاک ڈاؤن ختم کرنے کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ملک میں اس وقت کرونا وائرس کے 26 ہزار سے زیادہ تصدیق شدہ مریض ہیں، جب کہ 824 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک میں ہفتے کے روز سب سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے جن کی تعداد دو ہزار سے زیادہ تھی۔

لیکن دوسری جانب بھارت میں کرونا وائرس کا زور بڑے شہروں اور گنجان آباد علاقوں میں ہے، جب کہ دیہی علاقے زیادہ تر اس سے محفوظ ہیں۔ تاہم دیہی علاقوں میں بھی کرونا وائرس سے پچنے کے لیے لوگوں نے اپنے طور پر انتظامات کیے ہیں۔ کئی دیہاتوں میں رضاکار دستے تیار کیے گئے ہیں جو باہر سے آنے والے کسی بھی شخص کو گاؤں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔

وزیر اعظم مودی نے بھی اپنی تقریر میں اسی چیز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام چوکس رہیں کیونکہ کرونا وائرس شہر اور گاؤں میں کوئی فرق نہیں کرتا اور وہ ہر جگہ پہنچ سکتا ہے۔

بھارت نے ہفتے کے روز دیہی علاقوں اور شہروں کے مضافات میں کاروباروں کو کھولنے کی اجازت دیتے ہوئے لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھروں سے باہر نکلتے ہوئے تمام احتیاطی تدابیر کریں۔ اسی طرح حکومت نے بعض کارخانوں کو بھی دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ لیکن لوگ بہت محتاط ہیں۔

نئی دہلی سے وائس آف امریکہ کی انجنا پسریچا نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اجازت ملنے کے باوجود تاجر دکانیں کھولنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

کئی دکانداروں نے انہیں بتایا کہ وہ اپنی دکانوں کے شٹر کھولنے میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتے کیونکہ فی الحال یہ امکان کم ہے کہ گاہک خریداری کے لیے باہر نکلیں گے۔ دوسرا یہ کہ جب تک وائرس کا خطرہ کم نہیں ہو جاتا وہ خود کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے۔

تاجروں کی تنظیم آل انڈیا ٹریڈرز کے سیکرٹری جنرل پراوین خاندلوال نے بتایا کہ تاجروں کا اعتماد بحال ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ اس لیے کاروباری سرگرمیوں کے جلد بحال ہونے کا امکان نہیں ہے۔

یہ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت پیر کے روز اس بارے میں اپنی حکمت عملی کا اعلان کرے گی اور ممکن ہے کہ 3 مئی سے لاک ڈاؤن کی پابندیاں اٹھا لی جائیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG