رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس سے دنیا بھر میں اموات دو لاکھ تین ہزار ہو گئیں


جارجیا میں دوسرے روز بھی ہیئر سیلون کھلے رہے۔

ایسے میں جب ہفتے کو فلوریڈا کی ایک کاؤنٹی نے لاک ڈاؤن میں نرمی کی اور کیلی فورنیا میں گرمی میں اضافہ ہوا، متعدد امریکیوں نے ساحلوں کا رخ کیا؛ حالانکہ ایک ہی روز قبل امریکہ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ رپورٹ کیا گیا؛ جب کہ دنیا بھر میں ہلاکتیں دو لاکھ سے متجاوز ہو گئی ہیں۔

حکومتی احکامات پر ایک ماہ کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی اور کسی قدر معاشی سرگرمیاں دوبارہ کھلنے کے بعد جارجیا، اوکلاہاما اور امریکہ کی چند دیگر ریاستوں میں آج دوسرے روز بھی ہیئر سیلوں اور دیگر دکانیں کھلی رہیں۔

اس سے قبل، صحت عامہ کے متعدد ماہرین نے انتباہ جاری کیا تھا کہ معمولات زندگی میں نرمی نہ کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو قربت آنے کی اجازت دینے کے نتیجے میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو نہیں روکا جا سکتا، جو سانس کی تکلیف کا متعدی مرض ہے، جو مہلک اور جان لیوا ہے۔

رائٹرز کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جمعے کے روز امریکہ میں کرونا وائرس کے ریکارڈ 36،491 نئے مریض درج ہوئے۔

ہفتے کے دن دنیا بھر میں کرونا کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 200،000 سے تجاوز کر گئی؛ جن میں سے ایک تہائی ہلاکتیں صرف امریکہ میں واقع ہوئی ہیں۔

نیو یارک کے گورنر، اینڈریو کومو نے ہفتے کے روز انتباہ جاری کیا کہ کاروباری اداروں کو کھولنے کی اجازت دینا خطرے سے خالی نہیں ہو گا؛ جب کہ رہوڈ آئی لینڈ کی گورنر گینا رائے مونڈو نے اسٹیٹ کے ہاؤس ان پرووائڈنس میں لاک ڈاؤن کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے کو عاقبت نا اندیش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرنے سے کاروبار دوبارہ کھولنے کی تاریخ مزید آگے بڑھائی جائے گی۔

رائے مونڈو نے بریفنگ کے دوران اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ''اس مرحلے پر سماجی دوری کے ضابطوں کا انحراف انتہائی خود غرضانہ سوچ کا حامل ہو گا''۔

ان کا اشارہ لاک ڈاؤن کی جانب تھا جو کم از کم آٹھ مئی تک لاگو رہے گا۔

ان کے بقول، ''اس کے خلاف احتجاج درست نہیں؛ اگر سارے لوگ بھی قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں ہیں تب بھی اس تاریخ میں تبدیلی نہیں ہو گی۔ اس سے قبل معاشی سرگرمیاں کھولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG