رسائی کے لنکس

logo-print

نیٹ فلکس بھی کرونا وائرس کی پکڑ میں آ گیا


فائل فوٹو

کورونا وائرس زندگی کے ہر شعبے کو مثاثر کرتا ہوا نطر آتا ہے۔ کاروبار، سروسز، سکول بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اور جیسا کہ کہا جا رہا تھا کہ زندگی ویسے نہیں رہے گی جیسے اس عالمی وبا کے پھیلاو سے پہلے تھی، اب انٹرٹینمنٹ سٹریمنگ ادارے بھی اس کی لپیٹ میں آتے نظر آتے ہیں۔

یورپی یونین نے انٹرنیٹ پر تفریحی مواد سٹریم کرنے والی بڑی کمپنی نیٹ فلکس پر زور دیا ہے کہ وہ ہائی ڈیفینیشن وڈیوز اور دیگر مواد دکھانا بند کر دے۔ اس تاکید کا مقصد ایسے میں انٹرنیٹ سروسز میں ممکنہ خلل سے بچنا ہےجب کرونا وائرس کی عالمی وبا کے سبب انٹرنیٹ کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

نیٹ فلکس کے ترجمان نے سی این این بزنس کے ساتھ اپنے گفتگو میں اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ کمپنی نے پہلی ہی نیٹ ورک کی استعداد کار کے مطابق اپنی سٹریم کو ایڈجسٹ کیا ہے اور ایک سپیشل ڈیلیوری نیٹ ورک استعمال میں ہے جس سے صارف کو نچلی سطح کے بینڈورتھ پر مواد دستیاب ہو۔

اس سے قبل یورپیئن کمشنر تھیری بریٹن نے جو یورپی یونین کی انٹرنل مارکیٹنگ کے ذمہ دار ہیں اور ان کی سروسز 450 ملین سے زائد شہریوں کو کور کرتی ہیں، بدھ کے روز ایک ٹویٹ میں نیٹ فلکس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ریڈ ہیسٹنگز سے بات کی ہے۔

بریٹن نے کمپنیوں اور شہریوں سے کہا ہے کہ سٹینڈرڈ ڈیفی نیشن استعمال کریں تا وقتتکہ ایچ ڈی ناگزیر نہ ہو۔ تاکہ انٹرنیٹ عام لوگوں کو استعمال کے لیے دستیاب رہے۔

رپورٹ کے مطابق، نیٹ فلیکس اور گوگل مشترکہ طور پر انٹرنیٹ پر جاری ڈیٹا کا 25 فیصد سٹریم کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG