رسائی کے لنکس

logo-print

'چار افراد پر مشتمل خاندان کیلئے پہلا امدادی چیک تین ہزار ڈالر'


امریکی وزیر خزانہ۔

مرکزی حکومت کی جانب سے چار افراد پر مشتمل خاندان کیلئے، پہلا امدادی چیک تین ہزار ڈالر تک ہو سکتا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے امدادی پروگرام کے تحت ایک کھرب ڈالر کے پیکج سے کرونا وائرس کے نتیجے میں گرتی ہوئی امریکی معیشت کو متحرک کرنے اور امریکی خاندانوں کی مدد کی جائے گی۔

جمعرات کو امریکی وزیر خزانہ، سٹیون منوچن کا کہنا تھا کہ کانگریس کو پیش کردہ وائٹ ہاؤس کے منصوبے کے مطابق، ہر چیک ڈاک کے ذریعے براہ راست لوگوں کے بینک اکاؤنٹ میں بھیجا جائے گا۔

منوچن نے فاکس بزنس نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے مطابق، ہر بالغ فرد کیلئے ایک ہزار جبکہ فی بچہ پانچ سو ڈالر ادائیگی ہو گی۔ اس طرح والدین اور دو بچوں پر مشتمل خاندان کو تین ہزار ڈالر وصول ہونگے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا ہدف آئندہ تین ہفتوں تک یہ رقم لوگوں تک پہنچانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محنت مشقت کرنے والے امریکیوں کیلئے یہ کافی رقم ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ اگر ہنگامی حالت جاری رہتی ہے تو پھر چھہ ہفتوں کے بعد، خاندانوں کو دوبارہ اتنی ہی رقم موصول ہو گی۔ عہدیداروں نے پہلے اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ یہ رقم آمدنی کی درجہ بندی کے حساب سے بانٹی جائے گی، تا کہ بہت امیر افراد اس میں شامل نہ ہوں۔

کانگریس فوری طور پر آئندہ چند دنوں کے اندر یہ امدادی پیکج مرتب کرے گی۔ سن دوہزار آٹھ کی کساد بازاری اور معاشی بحران کے بعد، امریکیوں کیلئے یہ سب سے بڑی امداد ہے۔

صدر ٹرمپ کے امدادی پیکج کی تفصیلات ابھی طے ہو رہی ہیں، اور قانون سازوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک کھرب ڈالر سے آگے جا سکتا ہے۔ تاہم، اس کا مقصد یہ ہے کہ آئندہ ماہ کے اوائل سے، امریکیوں کو پانچ سو ارب ڈالر کی براہ راست ادائیگی کی جا سکے۔

اس امدادی پیکج کا مقصد کرونا وائرس کی وجہ سے امریکہ کی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینا بھی ہے۔ حکومت کاروباروں کو اپنے ملازمین کو اجرتیں ادا کرنے میں مدد کیلئے رقم ادا کریگی۔ امریکہ کی اکیس کھرب ڈالر کی معیشت بہت سے شعبوں کے بند ہونے کی وجہ سے سخت مندی کا شکار ہے۔

صدر ٹرمپ نےجنگی صورت حال کے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے، اشد ضروری طبی سہولتوں، آلات اور ادویات کی پیداوار میں اضافہ لانے، اور ڈیفینس پروڈکشن ایکٹ کے تحت عارضی ہسپتال کھولنے کی ہدایات کی ہیں۔

جمعرات کے روز ایوان کی سپیکر نینسی پپلوسی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایک بھی دن ضائع نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فوری طور پر پہلی صف میں کام کرنے والے طبی عملے کو وینٹی لیٹرز، وائرس کی تشخیص کے ٹیسٹوں کی سہولت اور حفاظتی آلات میسر کرنا ہونگے۔

صدر ٹرمپ نے پہلے ہی کرونا وائرس کی تشخیص کے ٹیسٹوں میں تیزی لانے اور اس وائرس سے بیمار ہونے والوں کو بیماری کی چھٹیوں کے دوران، ادائیگی کیلئے ایک سو ارب ڈالر کے ایک مسودہ قانون پر دستخط کر کے اسے قانون کی شکل دے دی ہے۔

سینیٹ اس وقت تک اجلاس جاری رکھے گی جب تک کرونا وائرس سے متعلق تیسرا بل منظور نہیں ہوتا۔ توقع کی جاری ہے کہ اختتام ہفتہ بھی اجلاس جاری رہیں گے۔ اس وقت قانون ساز سخت دباؤ میں ہیں کہ وہ سیاست کی بجائے فوری طور پر بلوں کی منظوری دیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG