رسائی کے لنکس

logo-print

واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانہ کرونا کے خطرے کے باعث تین روز کے لیے بند


واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارت خانے کی عمارت۔ فائل فوٹو

واشنگٹن میں قائم پاکستانی سفارت خانے میں کروناوائرس کا ایک ممکنہ مریض کے سامنے آنے کے بعد اسے تین روز کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔

سفارت خانے کے جاری کردہ ہہ ایک نوٹیفکشن کے مطابق چار سے چھ جنوری تک سفارت خانے میں قونصلر آفس کی خدمات سمیت تمام سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ تاہم اس دوران ویزہ کے اجرا اور پاسپورٹ کی تجدید کی آن لائن خدمات بدستور جاری رہیں گی۔

نوٹیفیکشن کے مطابق سفارت خانے کی بندش کے دوران پوری عمارت کو جراثیموں سے پاک کیا جائے گا اور عملے تمام افراد کے کرونا ٹیسٹ لئے جائیں گے۔ جس کے بعد ہی سفارت خانے میں سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا جا سکے گا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق اس دوران ویزہ اور پاسپورٹ کی تجدید کے لئے کی گئی ای میل کے جواب بھی دیے جائیں گے اور ضروری اقدامات بھی کئے جائیں گے۔

سفارت خانے کی ترجمان ملیحہ جبانہ نے وی او اے کو بتایا کہ سفارت خانے کا ایک ڈرائیور کوویڈ نانٹین کا شکار ہو گیا تھا، جس پر دیگر عملے اور خدمات کے لئے آنے والوں کی حفاظت کے پیش نظر ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کوشش کی جائے گی کہ اس دوران قونصلر خدمات زیادہ متاثر نہ ہوں۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ میں کوویڈ نانٹین کے دو کروڑ سے زائد کیسز ریکارڈ کئے گیے۔ کیونکہ سال نو کے موقع پر لوگوں نے اس وائرس کے پھیلاؤ پر کنٹرول رکھنے سے متعلق ملکی سطح پر جاری ہدایات کو نظر انداز کر دیا تھا۔

امریکہ میں کرونا وبا سے ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے بڑھ گئی ہے جو دنیا کے کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ ہے۔

بالٹی مور میں قائم یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اب تک کرونا کے دو کروڑ سات ہزار 149 کیسز رجسڑڈ کئے گئے۔ اس طرح یہ ملک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کرونا کیسز اور اس سے ہونے والی اموات کے لحاظ سے دنیا کا سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے۔

گزشتہ مہینے کے وسط سے شروع ہونے والی ویکیسین کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں عالمی وبا کے پھیلاؤ پر قابو پانا ممکن ہو جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG