رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 447 ہوگئی


Pakistan Coronavirus

پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ جمعرات کی شام پانچ بجے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ان مریضوں کی تعداد 326 بتائی جو رات گئے 447 ہوگئی ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے کرونا وائرس سے متعلق معلومات کے لیے خصوصی طور پر بنائی گئی ویب سائیٹ پر کرونا وائرس کی یہ مصدقہ تعداد ہے۔

اس صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اب صرف ایران سے آنے والے زائرین ہی نہیں بلکہ ان سے مقامی طور پر بھی عام لوگوں میں یہ بیماری پھیل رہی ہے۔

اب تک ملک بھر میں اس وائرس سے 2 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے، جبکہ پانچ افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 117 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے اس وقت سندھ سب سے آگے ہے جہاں مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ 245 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں کرونا مریضوں کی تعداد 23، پنجاب میں 78، بلوچستان میں 81، اسلام آباد میں 7، گلگت بلتستان میں 12 ہوگئی جب کہ آزاد کشمیر میں ایک مریض زیر علاج ہے۔

پنجاب کے مختلف علاقوں میں اس مرض سے متاثرہ افراد کے بارے میں تفصیلات سامنے آرہی ہیں اور راولپنڈی میں کرونا وائرس کا پہلا تصدیق شدہ کیس سامنے آگیا۔ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے بھی اس کیس کی تصدیق کردی اور کہا ہے کہ پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 80 تک پہنچ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت ان حالات میں انتھک کوششیں کر رہی ہے اور تمام مریضوں کو عالمی معیار کے مطابق علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

اب تک لاہور میں 14 اور گجرات میں 4 کیسز سامنے آئے ہیں، جب کہ ایران سے آنے والے 60 زائرین بھی متاثر ہیں جن میں سے 55 ڈی جی خان اور پانچ ملتان میں موجود ہیں۔

خیبر پختون خوا کے محکمہ ریلیف کے مطابق، سابق قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں اب تک 5، ڈیرہ اسماعیل خان اور مردان سے 3، 3 جب کہ لوئر دیر، مالاکنڈ، پشاور اور ہری پور سے ایک ایک مریض میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

تمام متاثرہ افراد کو ڈیرہ اسماعیل خان کے درہ زندہ آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ محکمہ ریلیف خیبر پختونخوا نے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو ان کے پتے پر صوبائی حکومت کی جانب سے فوڈ پیکیج بھجوانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور پولیس اہلکار قرنطینہ کرنے والے مقامات پر عوام کو بے جا ہراساں نہ کریں۔

اسلام آباد کی صورتحال

اسلام آباد میں اب تک سات کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے تمام شاپنگ مالز، ہوٹلز اور اتوار بازار بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات کی زیر صدارت کرونا وائرس کی صورتحال سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا جس میں تمام سرکاری و پرائیوٹ اسپتالوں کو کورونافوکل پرسن فوری مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ کہا گیا کہ تمام پرائیوٹ اسپتال کرونا آئسولیشن وارڈز بنانے کے پابند ہوں گے۔ پولیس اہلکاروں کو اسپتالوں میں صورتحال کنٹرول کرنے کیلئےتعینات کیا جائے گا۔ کرونا سےہلاکتوں کی تدفین پر ایس او پی کے مطابق کم سے کم افراد کو جانے کی اجازت ہو گی، اس کے ساتھ تمام مساجد اور چرچز میں محدود عملہ ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ نے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن دفاتر ،نادرا آفس، پاسپورٹس دفاتر بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پرائیویٹ پراپرٹی دفاتر، بیوٹی پارلرز، سیلونز بھی بند کردئیےجائیں گے۔ ابتدائی طور پر15 دنوں کے لئے اس پابندی کا اطلاق ہوگا۔

وفاقی وزارت داخلہ کا نیا نوٹیفکیشن

وزارت داخلہ نے تمام وفاقی وزارتوں کے وفاتر کے لئے نئے احکامات جاری کیے ہیں جن کے مطابق، تمام اہم افسران کی نشان دہی اور ان کی کام پر حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔

جاری کردہ سرکلر میں 50 سالہ یا زائد عمر کے افسران و اہلکاروں کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور صرف انتہائی اہم امور انجام دینے والے ملازمین کی حاضری ضروری قرار دی گئی ہے۔ بخار اور زکام میں مبتلا ملازمین کو دفتر آنے سے منع کر دیا گیا ہے، جبکہ شادی شدہ خواتین ملازمین کو بھی دفتر حاضری سے استثنیٰ دے کر انہیں گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG