رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا وائرس کے 300 سے زائد کیسز: حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟


(فائل فوٹو)

پاکستان میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 307 ہو گئی ہے جس کے بعد حکومت کی جانب سے حفاظتی اقدامات میں تیزی آ گئی ہے۔

حکومت نے فوری طور پر میڈیکل آلات بڑے پیمانے پر درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بڑے ہوٹلوں کو قرنطینہ مراکز میں تبدیل کرنے کی سفارش کر دی ہے۔

وزارتِ صحت نے پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد سے متعلق نئی رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 307 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں سے پانچ مریض صحت یاب اور دو ہلاک ہو گئے ہیں۔

وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں 61 نئے مریضوں کا اضافہ ہوا ہے۔ سندھ میں مریضوں کی تعداد 211، پنجاب میں 33، بلوچستان میں 23 اور خیبر پختونخوا میں 17 مریض زیرِ علاج ہیں۔

میڈیکل آلات درآمد کرنے کا فیصلہ

کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر حکومت نے فوری طور پر بڑے پیمانے پر میڈیکل آلات درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چین سمیت تین بڑے ممالک سے کرونا وائرس کی ٹیسٹنگ کٹس، وینٹیلیٹرز، تھرمل اسکینرز اور دیگر میڈیکل آلات درآمد کیے جائیں گے۔

ڈیڑھ لاکھ ٹیسٹنگ کٹس، ایک ہزار سے زائد وینٹی لیٹرز اور اسکینرز میں سے 25 ہزار کٹس اور وینٹی لیٹرز کی پہلی کھیپ دو دن تک پاکستان پہنچ جائے گی۔

یہ سامان چاروں صوبائی حکومتوں اور آرمڈ فورسز کو دیا جائے گا۔

نئے قرنطینہ مراکز قائم کرنے کا فیصلہ

حکومت نے ایران کے ساتھ سرحدی علاقے تفتان اور افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں خیبر اور چمن بارڈر پر فوری طور پر معیاری قرنطینہ مراکز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں پر بھی آئسولیشن سینٹرز بنائے جائیں گے۔

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

بڑے ہوٹلوں کو قرنطینہ مراکز بنانے کی سفارش

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو خط لکھا ہے جس میں تھری اسٹار اور فائیو اسٹار ہوٹلوں کو قرنطینہ مراکز میں تبدیل کرنے کی سفارش کی ہے۔

کرونا وائرس کے ہر مشتبہ شخص کو الگ کمرے میں رکھنے کی پالیسی اپنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

سندھ میں کرونا وائرس کے بڑھتے مریض

صوبۂ سندھ میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبائی دارالحکومت اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کرونا وائرس کے مزید تین کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد سندھ میں مریضوں کی تعداد 211 ہو گئی ہے۔

صوبائی محکمہ صحت کی ترجمان میران یوسف کے مطابق 211 میں سے 151 کیسز تافتان سے سکھر پہنچنے والے زائرین میں سامنے آئے ہیں۔ حیدرآباد میں ایک اور کراچی سے 59 کیسز سامنے آئے ہیں۔

بڑھتے کیسز کے پیشِ نظر حکومت سندھ نے کراچی میں واقع ایکسپو سینٹر کو 10 ہزار بستروں پر مشتمل عارضی اسپتال بنانے اور اسی میں آئسولیشن وارڈز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے فوج سے بھی مدد لی جائے گی۔

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

راشن بیگز گھروں پر پہنچانے کی ہدایت

سندھ حکومت نے شہروں کی بندش کے باعث فیصلہ کیا ہے کہ غریب افراد کے گھروں میں راشن پہنچایا جائے گا جس کے لیے فوج کی مدد بھی حاصل کی جائے گی۔

پہلے مرحلے میں ایک مہینے کے راشن بیگز لوگوں کے گھروں پر پہنچانے کا انتظام کیا جائے گا۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے ابتدائی طور پر 20 لاکھ راشن بیگز تیار کرنے کی ہدایت دی ہے جن میں چاول، آٹا، تین اقسام کی دالیں، گھی، چینی، چائے کی پتی، خشک دودھ اور مصالحہ جات شامل ہوں گے۔

پنجاب کے سرکاری دفاتر لوگوں کے لیے بند

کرونا وائرس کے پیش نظر حکومت پنجاب نے سرکاری دفاتر میں عام افراد کا داخلہ بند کر دیا ہے۔

حکومتِ پنجاب نے صوبے کے تمام سرکاری دفاتر بالخصوص سول سیکرٹریٹ میں عوام کا داخلہ بند کر دیا ہے جب کہ سرکاری دفاتر میں ملازمین کو دفتر آنے سے روک دیا گیا ہے۔ صرف اہم محکموں کے ضروری افراد ہی دفتر آئیں گے۔

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

مردان میں کرونا وائرس سے ہلاکت کے بعد ایک یونین کونسل بند

خیبر پختونخوا کی حکومت نے ضلع مردان میں کرونا وائرس سے ایک شخص کی ہلاکت کے بعد ایک یونین کونسل کو بدھ کی رات سے مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔

مردان کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یونین کونسل منگاہ کی حدود سے کسی بھی شخص کو باہر جانے یا اندر آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز مردان میڈیکل کمپلیکس میں کرونا وائرس سے ایک مریض کی ہالکت ہوئی تھی جو یونین کونسل منگاہ سے تعلق رکھتا تھا۔ مذکورہ شخص ایک ہفتہ پہلے ہی عمرے سے آیا تھا اور اس نے اپنی دوستوں اور عزیزوں کے لیے دعوت طعام کا بھی اہتمام کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG