رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس کے باعث مصنوعات کی تیاری، خریداری اور سیاحت ٹھپ


بیجنگ میں قمری چاند کی تعطیلات اور خوشیاں ماند پڑ چکی ہیں۔

مشہور ہے کہ شمال مشرقی ایشیا کے کارخانوں میں کم لاگت پر زیادہ مصنوعات تیار ہوتی ہیں، صارفین وافر چیزوں کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔ 2020ء کے لیے میانمار سے فلپائن تک پیش گوئی یہ تھی کہ نئے سال کے دوران معاشی افزائش 6 فی صد شرح سے فروغ پائے گی۔ چھ ہفتے گزر گئے ہیں، تقریباً ہر چیز ٹھپ پڑی ہوئی ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ آگے کیا ہوگا۔

چین میں مہلک کرونا وائرس پھیلنے سے ملائیشیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ کی سیاحت بند پڑی ہے، چونکہ ان ملکوں میں بھی اس وقت دھیان وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات پر مرکوز ہے۔

دنیا بھر کی ایئرلائنز نے ان ملکوں کے ساتھ 25000 پروازیں منسوخ کی ہیں۔

جنوب مشرقی ایشیا کی برآمدی مصنوعات پیدا کرنے سے منسلک تاجر جن کی فیکٹریاں ویتنام میں ہیں اس ماہ انھیں چین سے خام مال نہیں مل پارہا، چونکہ وائرس کے نتیجے میں سب کچھ بند پڑا ہے۔

براعظم کے 63 کروڑ افراد وائرس کے خوف سے گھروں تک محدود ہیں، وہ خریداری کے لیے باہر ہی نہیں نکلتے۔

کرونا وائرس کے اثرات کے بارے میں ’موڈیز انویسٹرز سروس‘ نے منگل کے روز بتایا کہ چین سے باہر معاشی اثرات یہ نکلیں گے کہ سیاحوں کی آمد رک جائے گی، چین سے اشیا کی درآمد کم ہوجائے گی، اور چین پر دار و مدار رکھنے والی معیشتوں کی رسد اور ترسیل کا نظام نہ ہونے کے برابر ہوگا۔

چین کے شہر ووہان میں دسمبر میں سانس کی مہلک بیماری، کرونا وائرس دریافت ہوئی۔ اب تک اس بیماری سے 43143 افراد متاثر ہوچکے ہیں، جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 1008 ہو چکی ہیں، جن میں سے زیادہ تر چین کے باشندے ہیں۔

چین نے بیماری پھیلنے والے شہروں میں لوگوں کی آمد و رفت بند کر دی ہے، اور قمری سال کی تعطیلات ایک ہفتہ بڑھا دی ہیں، تاکہ اسکولوں اور کام کے مقامات کو بیماری کے اثر سے بچایا جا سکے۔

تاہم، پیر کے دن سے چین کے زیادہ تر مزدور اپنے کام پر لوٹ آئے۔

ماہرینِ معاشیات کے خیال میں چونکہ جنوب مشرقی ایشیا کے چین سے قریبی معاشی اور تجارتی روابط ہیں چین کی صورت حال کے ان پر سنگین اثرات پڑیں گے۔

نئے قمری سال کی تعطیلات کے دوران ہر سال عام طور پر چین سے بڑی تعداد میں سیاح جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں میں آتے ہیں۔

لیکن، اس سال یکم فروری سے ہی سیاحوں نے بیرون ملک جانے کا ارادہ ترک کر دیا تھا، اس لیے بھی چونکہ باہر کے ملکوں نے ان کے داخلے پر پابندیاں لگا دی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG