رسائی کے لنکس

کرونا ٹیسٹ کی شرط: افغان شہریوں کی طورخم کے راستے پاکستان آمد میں کمی


فائل فوٹو
فائل فوٹو

ٹیسٹ کی پابندی کا اطلاق سرحدی قصبے طورخم اور لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے مقامی مزدوروں پر بھی ہو رہا ہے۔ جو روزانہ کی بنیاد پر افغانستان آتے جاتے ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف مزدور بھی تین دن سے احتجاج کر رہے ہیں۔

سرحدی گزر گاہ طور خم کے راستے پاکستان آنے والے افغان باشندوں کے لیے کرونا ٹیسٹ لازمی قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد سے افغانستان سے پاکستان آنے والوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔

چند روز قبل حکومتِ پاکستان نے طورخم کے راستے آنے والے افغان باشندوں کے لیے کرونا ٹیسٹ لازمی قرار دیا تھا۔

ضلع خیبر کے سرحدی قصبے لنڈی کوتل کے مکین صحافی ابو ذر آفریدی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر گزشتہ چار دن سے عمل درآمد ہو رہا ہے۔ تاہم اس فیصلے سے افغانستان سے پاکستان آنے والوں کی تعداد میں کافی کمی ہو گئی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں روزانہ افغانستان سے آنے والوں کی اوسطاََ تعداد چھ ہزار سے زیادہ تھی۔ مگر اب یہ تعداد گھٹ کر ایک ہزار سے 12 سو تک رہ گئی ہے۔

ٹیسٹ کی پابندی کا اطلاق سرحدی قصبے طورخم اور لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے مقامی مزدوروں پر بھی ہو رہا ہے۔ جو روزانہ کی بنیاد پر افغانستان آتے جاتے ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف مزدور بھی تین دن سے احتجاج کر رہے ہیں۔

مزدور رہنما فرمان علی شنواری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لنڈی کوتل اور طورخم میں کرونا ٹیسٹ کی کوئی لیبارٹری نہیں ہے۔ لہذا ان کا مطالبہ ہے کہ طورخم یا لنڈی کوتل میں لیبارٹری قائم کی جائے۔

چمن کے مزدوروں کا روزگار دو ملکوں میں تقسیم
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:45 0:00

مبصرین کے مطابق حکومتِ پاکستان کے اس فیصلے سے نہ صرف علاج معالجے بلکہ تجارتی اور کاروباری مقاصد کے لیے پاکستان آنے والوں کی تعداد میں بھی کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔

کابل میں حکام کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی کی صدارت میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیرِ صحت ڈاکٹر احمد جاوید عثمان نے کہا تھا کہ اس مسئلے کو پاکستان کے حکام کے سامنے اُٹھایا جائے گا۔

رواں سال مارچ کے بعد کرونا ٹیسٹ صرف ہوائی سفر کے ذریعے پاکستان پہنچنے والے افغان باشندوں کے لیے لازمی تھا۔ زمینی راستوں سے آنے والے افغان باشندوں کے لیے کرونا ٹیسٹ لازمی قرار دینے سے مشکلات میں مزید اضافے کی شکایات کی جا رہی ہیں۔

XS
SM
MD
LG