رسائی کے لنکس

logo-print

اینٹی باڈیز سے کرونا وائرس کے علاج پر تجربات


بیجنگ یونیورسٹی کے سائنس دان مخصوص اینٹی باڈیز الگ کر کے ان سے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے تجربات کر رہے ہیں۔

چین کے طبی ماہرین مخصوص اینٹی باڈیز کو علیحدہ کر کے کرونا وائرس کو بلاک کرنے کا تجربہ کر رہے ہیں ہیں۔ چینی ماہرین پر امید ہیں کہ ان کا یہ تجربہ کرونا وائرس کا کارگر علاج ثابت ہو گا۔

خبر رساں ایجنسی رائٹر کے مطابق بیجنگ یونی ورسٹی کے سائنس دان چند اینٹی باڈیز کو علیحدہ کر کے یہ تجربات کر رہے ہیں کہ آیا انہیں کرونا وائرس کو بلاک کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ انسانی خلیوں میں داخل نہ ہو سکیں۔

بیجنگ میں سنگ ہوا یونی ورسٹی کے ایک محقق ژانگ لنکی کا کہنا ہے کہ دوسرے امکانی علاج یعنی پلازما کی نسبت یہ طریقہ زیادہ موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ پلازما میں بھی اینٹی باڈیز ہوتی ہیں مگر ان کا تعلق خون کے گروپ سے ہوتا ہے اور اس لیے ہر پلازما ہر مریض کو نہیں دیا جا سکتا۔ یہ پلازما ان افراد سے حاصل کیا جاتا ہے جو کرونا مرض سے صحت یاب ہو چکے ہوں۔

عام طور ہر کسی دوا کی تیاری میں دو سال لگ جاتے ہیں کیوں کہ پہلے جانوروں پر تجربات کیے جاتے ہیں اور اس کے بعد انسانوں پر۔ مگر کرونا کی عالمگیر وبا کے پیش نظر اس کے دورانیے کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ژانگ کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اینٹی باڈیز کا تجربہ چھ ماہ کے اندر انسانوں پر کیا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ یہ اینٹی باڈیز ویکسین کے طور پر کام نہیں کریں گی بلکہ انہیں کرونا کے شکار مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

انیٹی باڈیز انسانی جسم کی قوت مدافعت ہوتی ہے جو مختلف بیرونی حملوں کے خلاف الگ الگ کام کرتے ہیں۔

جب کہ پلازما انسانی خون کا وہ حصہ ہوتا ہے جس میں سے سرخ خلیے نکال دیے جاتے ہیں اور بقیہ سفید خلیے اور کیمیاوی مادے موجود رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG