رسائی کے لنکس

logo-print

گزشتہ ہفتے 14 لاکھ امریکی کارکنوں کی بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواست


فائل فوٹو

پچھلے ہفتے مزید 14 لاکھ کارکنوں نے اپنی ملازمتیں کھونے کے بعد بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواستیں جمع کروائی ہیں۔ یہ بات جمعرات کے روز امریکہ کے لیبر ڈپارٹمنٹ کے لیے ایک بیان میں کہی گئی ہے۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے وجہ سے کاروبار بند ہونے کے نتیجے میں ریکارڈ تعداد میں امریکی کارکن بے روزگار ہوئے تھے۔ تاہم، بعد ازاں، رفتہ رفتہ پابندیاں نرم ہونے سے لاکھوں کارکن اپنے روزگار پر واپس چلے گئے۔

حالیہ ہفتوں میں کئی ریاستوں میں عالمی وبا کا زور دیکھا جا رہا ہے اور نئے مریضوں کی روزانہ اوسط 60 ہزار سے زیادہ رہی ہے اور متاثرین کی کل تعداد 40 لاکھ ہو چکی ہے۔ اس کا اثر روزگار پر بھی پڑ رہا ہے اور کارکنوں کو برطرف کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

عالمی وبا کے پھیلاؤ کے بعد کسی ایک ہفتے میں سب سے زیادہ بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواستیں مارچ میں داخل کی گئی تھیں جن کی تعداد 69 لاکھ کے لگ بھگ تھی، جب کہ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران اوسطاً 14 لاکھ درخواستیں دائر کی جاتی رہی ہیں جو تاریخی اعتبار سے بہت اونچی شرح ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اگرچہ لاکھوں کارکن اپنے روزگار پر واپس چلے گئے ہیں، لیکن اس کے باوجود ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد ایک کروڑ 62 لاکھ کے قریب ہے۔

پچھلے چار مہینوں کے دوران ایسے مواقع بھی آ چکے ہیں کہ کسی ایک وقت میں 5 کروڑ 24 لاکھ کارکن حکومت سے بے روزگاری الاونس لیتے رہے ہیں۔

اس سے قبل کسی ایک ہفتے کے دوران بے روزگاری الاؤنس لینے والوں کی تعداد کا ریکارڈ 1982 میں قائم ہوا تھا اور 6 لاکھ 95 ہزار افراد نے بے روزگاری الاؤنس حاصل کیا تھا۔

کرونا وائرس کی وبا کے دوران حکومت نے بے روزگار ہونے والے کارکنوں کی مدد کے لیے الاونس کے علاوہ انہیں 600 ڈالر فی ہفتہ دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔ اس عبوری امداد کی مدت اس ہفتے ختم ہو رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس اور کانگرس بے روزگاروں کے لیے اضافی امداد پر غور کر رہی ہے۔ تاہم، ابھی اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

حال ہی میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے کرونا وائرس پر کنٹرول حاصل ہونے سے قبل اس کی صورت حال مزید ابتر ہو سکتی ہے۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت میں جلد بحال ہونے کی طاقت موجود ہے اور انہیں توقع ہے کہ اگلے سال حالات بہتر ہو جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG