رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

17:22 23.3.2020

وزیرِ تعلیم سندھ سعید غنی کرونا وائرس میں مبتلا

پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیرِ تعلیم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنما سعید غنی کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ روز کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرایا تھا جس کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔

صوبائی وزیر سعید غنی نے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر ایک بیان میں کہا کہ انہیں حیرت ہے کہ ان کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے۔

صوبائی وزیر کے مطابق انہیں فی الحال کوئی ایسی ظاہری علامات نہیں جس سے اس بیماری کا معلوم ہو۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں کھانسی، نزلہ، بخار بالکل نہیں۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انہوں نے فوری طور پر تمام سرگرمیاں ترک کر دیں اور وہ قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صوبائی حکومت کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں پر سختی سے عمل کریں تاکہ اس وبا کو پھیلنے سے بچا جاسکے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں اس وبا سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ سندھ ہی ہے جہاں اب تک اس کے مریضوں کی تعداد 350 سے تجاوز کرچکی ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد صوبائی کابینہ کے دیگر ارکان میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

17:19 23.3.2020

خیبرپختونخوا میں جزوی لاک ڈاؤن میں توسیع

خیبرپختونخوا میں کرونا وائرس کے 31 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ (فائل فوٹو)
خیبرپختونخوا میں کرونا وائرس کے 31 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے پیشِ نظر صوبے بھر میں جزوی لاک ڈاؤن میں آئندہ اتوار تک توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ محمود خان کی زیرِ صدارت پیر کو اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس کے دوران کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتِ حال اور اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران گزشتہ تین روز سے جاری جزوی لاک ڈاؤن کے بہتر نتائج کو دیکھتے ہوئے اس میں 29 مارچ تک توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جزوی لاک ڈاؤن کے دوران صوبے کے تمام تجارتی مراکز، ہوٹل اور ریستوران بند رہیں گے جب کہ صوبے بھر میں بین الاضلاع پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی ہو گی۔

حکام کے مطابق صوبے بھر میں کھانے پینے کی اشیاء، میڈیکل اسٹورز، ایمبولینسز اور سامان سے لدھی ہوئی گاڑیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

17:03 23.3.2020

کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن

16:58 23.3.2020

پنجاب میں بھی سخت پابندیوں کا اعلان

وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے مطابق پابندی کے دوران فوڈ سپلائی چین برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)
وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے مطابق پابندی کے دوران فوڈ سپلائی چین برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اعلان کیا ہے کہ 24 مارچ کی صبح نو بجے سے چھ اپریل تک صوبے بھر میں تمام شاپنگ مالز بند رہیں گے اور ڈبل سواری پر پابندی ہوگی۔

صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران عثمان بزدار نے بتایا کہ پنجاب میں دو ہفتے کے لیے تمام سیاحتی مقامات بند رہیں گے تاہم فوڈ سپلائی چین برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت سبزی منڈی، کریانہ اسٹورز، بیکریاں اور میڈیکل اسٹورز کھلے رہیں گے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پابندیوں کے دوران کرفیو جیسی صورتِ حال نہیں ہو گی اور ایسا بھی نہیں ہو گا کہ گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG