- By علی فرقان
مناسب قیمت پر اشیا خور و نوش کی فراہمی یقینی بنانا چاہتے ہیں: مشیر خزانہ
وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کہتے ہیں کہ حکومت تاجر برادری اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے میں پرعزم ہے اور بحران کے دور میں معیشت کو چلانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل اور کراچی کی بزنس کمیونٹی سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بات کرتے ہوئے حفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت کرونا وائرس کو محدود کرنا چاہتی ہے اور اس کے ساتھ عوام کو صحت عامہ کی سہولیات، مناسب قیمت پر ضروری اشیاء خور و نوش کی فراہمی اور تاجر برادری کو معاونت بھی یقینی بنانا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے بحرانی دور میں عوام کے پاس مناسب نقد رقم ہو جب کہ تاجر برادری کو کاروبار چلانے میں آسانی رہے تاکہ وبا کے دنوں میں معیشت کو نقصان نہ پہنچے۔
حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے ہم نے تجاویز طلب کی ہیں اور امید ہے کہ ایک ایسا منصوبہ بنائیں گے جو قابل عمل ہو گا اور جس سے ہم اپنے اہداف حاصل کر سکیں گے۔
- By روشن مغل
کشمیر میں کرونا وائرس کے 16 نئے مشتبہ کیس
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شبہے میں 16 نئے کیس درج ہوئے۔ جن کے ٹیسٹ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز ارسال کیے گئے ہیں۔
محکمہ صحت کی جانب جاری اعلامیے کے مطابق کشمیر میں اب تک کرونا وائرس کے شبہے میں کل 60 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ جن میں سے 40 کے نتائج آ چکے ہیں جب کہ 39 افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی اور ایک شخص میں کرونا وائرس پایا گیا۔ جس کو قرنطینہ سینٹر میرپور منتقل کر دیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق20 افراد کے ٹیسٹ کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔ ان کی رپورٹ آئندہ ایک دو روز میں موصول ہو جائے گی۔
خیال رہے کہ محکمہ صحت کا عملہ کشمیر کے تمام انٹری پوائنٹس پر موجود ہے اور انتظامیہ کے تعاون سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کر رہا ہے جب کہ کرونا وائرس کا شبہ ہونے کی صورت میں مذکورہ افراد کو قریبی قرنطینہ سینٹرز منتقل کیا جا رہا ہے۔
امارات میں پھنسے مسافروں کو لانے کے لیے ایک پرواز پاکستان لانے کی اجازت
وفاقی حکومت نے دبئی اور ابوظہبی میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے ایک پرواز پاکستان لانے کی اجازت دے دی ہے۔
ایوی ایشن ڈویژن کے مطابق دبئی اور ابوظہبی ایئر پورٹ پر 150 پاکستانی موجود ہیں جو پروازیں بند ہونے کی وجہ سے ان ہوائی اڈوں پر پھنس گئے تھے۔ پاکستان آنے والی پروازوں پر 22 مارچ سے مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ایوی ایشن ڈویژن کا کہنا ہے کہ ان 150 مسافروں کو وطن واپس لانے کے لیے فلائی دبئی کی ایک پرواز 24 مارچ کی صبح 12 بج کر 10 منٹ پر اسلام آباد پہنچے گی۔ اسلام آباد لائے جانے والے ان تمام مسافروں کی مکمل اسکریننگ کی جائے گی۔ جس کے بعد انہیں گھروں میں جانے یا قرنطینہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
- By ضیاء الرحمن
کرونا کے خطرے کے پیش نظر پنجاب میں لاک ڈاون
پاکستان میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لاک ڈاون 24 مارچ سے 4 اپریل 2020 تک جاری رہے گا۔
صوبہ پنجاب میں لاک ڈاون کا اہمم فیصلہ صوبائی کابینہ کمیٹی برائے کرونا کے اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ انسداد کرونا کے لیے ایک اہم اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ کرونا وائرس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے صوبہ بھر میں دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاون کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون میں صوبے بھر کے شاپنگ مالز، بازار، دکانیں، پارکس، ریسٹورنٹس اور عوامی اجتماعات والی تمام جگہیں بند ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کا مطلب کرفیو نہیں ہے۔ صوبے میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے۔ پنجاب بھر میں ڈبل سواری پر پابندی ہوگی۔