رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

11:59 24.3.2020

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

پاکستان اسٹاک ایکسچینچ میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز شدید مندی کا رجحان رہا جس کے باعث ٹریڈنگ دو گھنٹے کے لیے روک دی گئی۔

ٹریڈنگ کے دوران 30 انڈیکس میں سات اعشاریہ تین چھ فی صد کمی ریکارڈ کی گئی۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری مندی کی وجہ عالمی وبا کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتِ حال بتائی جاتی ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج نوٹس
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نوٹس

11:54 24.3.2020

میانمار میں کرونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ

میانمار میں کرونا وائرس کے متاثرہ افراد میں سے ایک 36 سالہ شخص امریکہ اور دوسرا 26 سالہ فرد برطانیہ سے واپس آیا تھا۔ (فائل فوٹو)
میانمار میں کرونا وائرس کے متاثرہ افراد میں سے ایک 36 سالہ شخص امریکہ اور دوسرا 26 سالہ فرد برطانیہ سے واپس آیا تھا۔ (فائل فوٹو)

پانچ کروڑ 40 لاکھ افراد پر مشتمل میانمار میں اب تک کرونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا۔ اس کے باوجود ایک کروڑ 70 لاکھ افراد اپنے گھروں تک محصور ہو کر رہ گئے تھے۔

ماہرین طب اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے میانمار میں لوگوں کے کرونا وائرس ٹیسٹ کرانے پر زور دیا تھا جس پر پیر کو 214 افراد کے ٹیسٹ کرائے گئے۔

ٹیسٹ کے بعد وزارتِ صحت نے دو افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ متاثرہ افراد میں سے ایک 36 سالہ شخص امریکہ اور دوسرا 26 سالہ فرد برطانیہ سے واپس آیا تھا۔

اس حوالے سے وزارت صحت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے ان تمام افراد کا ٹیسٹ کیا جائے گا جن سے یہ دونوں افراد ملتے رہے ہیں۔

اس اعلان کے ساتھ ہی میانمار کے دارالحکومت ینگون میں کے شہریوں نے سپر مارکیٹس اور دیگر بازاروں سے خریداری شروع کر دی ہے۔

میانمار کی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک بھر میں کرونا وائرس کا کوئی کیس موجود نہیں ہے۔

یاد رہے کہ میانمار کی 2100 کلو میٹر طویل سرحدیں چین سے ملتی ہیں جہاں دنیا میں سب سے پہلے کرونا وائرس دریافت ہوا تھا۔

11:44 24.3.2020

کرونا وائرس: دہلی پولیس نے شاہین باغ کا دھرنا جبراً ختم کرا دیا

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پولیس نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نافذ کردہ لاک ڈاؤن اور دفعہ 144 کے تحت شاہین باغ کے علاقے میں شہریت قانون مخالف دھرنے کو جبراً ختم کرا دیا ہے۔

نئی دہلی کے شاہین باغ میں خواتین کا دھرنا گزشتہ 100 دنوں سے جاری تھا۔ پیر کی صبح پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد دھرنا گاہ پہنچی اور مظاہرین سے جگہ خالی کرنے کا کہا۔ پولیس کے کہنے پر جب مظاہرین نہ ہٹے تو دھرنا گاہ کو جبراً خالی کرا لیا گیا۔

کارروائی کے دوران چھ خواتین اور تین مردوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

اس موقع پر علاقے کے لوگ بھی بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور پولیس کارروائی کی مخالفت کی۔ تاہم پولیس لوگوں کو سمجھاتی رہی کہ یہ کارروائی ان کی صحت کے پیشِ نظر کی گئی ہے۔ جس کے بعد مقامی لوگ کچھ دیر وہاں موجود رہنے کے بعد رفتہ رفتہ منتشر ہو گئے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس نے شاہین باغ کے علاوہ جعفر آباد، حوض رانی اور ترکمان گیٹ پر جاری خواتین کے دھرنے بھی ختم کرا دیے ہیں۔

11:38 24.3.2020

پاکستان کا 'سارک وزرائے صحت کانفرنس' کی میزبانی کی خواہش کا اظہار

شاہ محمود قریشی نے اپنے مالدیپ کے ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران سارک وزرائے صحت کانفرنس کی میزبانی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ (فائل فوٹو)
شاہ محمود قریشی نے اپنے مالدیپ کے ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران سارک وزرائے صحت کانفرنس کی میزبانی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان نے جنوبی ایشیائی تنظیم برائے علاقائی تعاون (سارک) کے وزرائے صحت کی کانفرنس کی میزبانی کی خواہش کا اظہار کیا ہے جو کہ کرونا وائرس کے خطے میں بڑھتے خطرات سے مشترکہ طور پر نمٹنے کی حکمت عملی پر غور کرے گی۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس خواہش کا اظہار مالدیپ کے ہم منصب عبد اللہ شاہد کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں کیا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتِ حال اور وبا کے تیزی سے پھیلاؤ کے نتیجے میں خطرے سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔

اس سے قبل 15 مارچ کو سارک ممالک کے قائدین نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اس وبائی امراض کے خلاف تعاون کے امکان کو تلاش کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔

یہ ویڈیو کانفرنس بھارت کے وزیراعظم اعظم نریندر مودی کی کرونا وائرس کے تناظر میں سارک ممالک کی مشترکہ کوششوں کی خواہش کے اظہار کے بعد منعقد ہوئی جسے پاکستان سمیت تمام رکن ممالک نے خوش آمدید کہا تھا۔

خیال رہے کہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں تناؤ کے باعث سارک تنظیم 2016 سے عملاً غیر فعال ہوچکی ہے جب بھارت نے اسلام آباد میں طے شدہ سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سارک ممالک میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ سری لنکا، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال، مالدیپ اور افغانستان شامل ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG