- By علی فرقان
چین کی پاکستان سے خنجراب گزرگاہ کھولنے کی درخواست
چین نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ دونوں ملکوں کو ملانے والی سرحدی گزرگاہ خنجراب کو عارضی طور پر کھولا جائے تاکہ کرونا وائرس کے تدارک کے لیے طبی سامان پہنچایا جاسکے۔
اسلام آباد کے چینی سفارت خانے کی جانب سے وزارتِ خارجہ کو لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا پے کہ چین کے خود مختار علاقے سنکیانگ ایغور کے گورنر، پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے لیے طبی سامان عطیہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس مراسلے کی نقول نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، گلگت بلتستان حکومت اور وزارتِ صحت کو بھی ارسال کی گئیں۔
خیال رہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان واحد سرحدی گزرگاہ خنجراب کو عموماً اپریل میں کھولا جاتا ہے لیکن کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث اسے غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
مراسلے میں طبی سامان کی جو تفصیلات بتائی گئی ہیں اس کے مطابق سنکیانگ کے گورنر گلگت بلتستان کے لیے دو لاکھ عام فیس ماسکس، دو ہزار این-95 فیس ماسکس، پانچ عدد وینٹی لیٹرز، دو ہزار ٹیسٹنگ کٹس اور دو ہزار ڈاکٹروں اور طبی عملے کے استعمال میں آنے والے حفاظتی لباس شامل ہیں۔
مراسلے کے مطابق گلگت بلتستان کے وزیر اعلی حفیظ الرحمٰن نے سنکیانگ کے گورنر سے درخواست کی تھی کہ صوبے میں کرونا وائرس سے لڑنے کے لیے طبی سامان فراہم کیا جائے۔
چینی سفارتخانے کے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ امدادی سامان 27 مارچ کی صبح خنجراب پاس کے ذریعے گلگت بلتستان کو فراہم کیے جانے کے لیے تیار ہے لہذا سرحدی گزرگاہ کو عارضی طور پر کھولنے کے لیے انتظام کیا جائے۔
کراچی میں لاک ڈاؤن
کرونا وائرس کے نقصانات تو بہت، فائدے کیا ہیں؟
ہلاکتیں، معاشی ابتری اور پوری دنیا میں لاک ڈاؤن، یہ کرونا وائرس کے کچھ ایسے اثرات ہیں جن سے ہر شخص پریشان ہے۔
لیکن اس وبا کے پھیلنے سے کچھ ایسی تبدیلیاں بھی واقع ہوئی ہیں جو دنیا کے لیے خوش گوار ہیں اور جن کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔
پاکستان میں بھی کرونا وائرس کے منفی اثرات کے ساتھ کچھ ایسے مثبت اثرات بھی رونما ہوئے ہیں جو خوش آئند ہیں۔