باجماعت نماز اور نمازِ جمعہ کے اجتماعات کو محدود کیا جائے گا: حکومت پاکستان
پاکستان میں حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک بھر کے تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رہیں گے۔
حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مساجد کو بند نہیں کیا جائے گا البتہ باجماعت نماز اور نمازِ جمعہ کے اجتماعات کو محدود کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں وزیر پلاننگ اسد عمر، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل افضل نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ عالمی بحران کے پاکستان پر بھی اثرات آرہے ہیں۔ مربوط حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں تاکہ کرونا کے کم سے کم اثرات ہوں۔ 182سے زائد ممالک میں کرونا وائرس پھیل چکا ہے۔ پاکستان بھر میں اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلے کیے جا رہے ہیں تاکہ فیصلے غلط نہ ہوں۔
اسد عمر نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اور صوبے مل کر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں آٹے کی کوئی کمی نہیں ہے۔
این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹننٹ جنرل افضل نے کہا کہ ملک بھر میں آئی سی یوز میں کام کرنے والے 30 ہزار ڈاکٹرز اور طبی عملے کے لیے مکمل کِٹس تیار کر لی گئی ہیں۔ جن میں حفاظتی لباس کے ساتھ این 95 ماسک، سرجیکل ماسک اور گلووز شامل ہوں گے۔ یہ تمام سامان 5 اپریل تک تمام طبی عملے تک پہنچا دیا جائے گی۔
لیفٹننٹ جنرل افضل کا کہنا تھا کہ مزید 1000 وینٹی لیٹرز بھی جلد پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ پنجاب میں 450 وینٹی لیٹرز خراب تھے اب وہ تعداد 61 رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت آئی سی یوز میں بیڈز کی تعداد 19ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔
وزیر مذہبی امورنورالحق قادری نے کہا کہ مساجد بند نہیں کی جائیں گی لیکن باجماعت نماز اور نماز جمعہ کے اجتماعات کو محدود کیا جائے۔ لوگوں کو باور کروایا جائے گا کہ وہ گھروں پر نماز ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعض حصوں کو بند کردیا گیا ہے۔ کربلا میں امام حسین کا مزار بند ہے۔
نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت نے پاکستان کو لکھا ہے کہ حج کے حوالے سے مختلف معاہدے نہ کیے جائیں۔ اب تک حج منسوخ ہونے کے حوالے سے کوئی حتمی بات سامنے نہیں ٓائی۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے ایک ہزار 128مریض ہیں۔
- By علی فرقان
باجماعت نماز کی ادائیگی عارضی طور پر ترک کرنے کے معاملے پر صدر کی علما سے مشاورت
پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے پر زور دیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عوام کو گھروں میں نماز ادا کرنے کی تلقین کریں.
صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے باجماعت نماز کی ادائیگی عارضی طور پر ترک کرنے کے معاملے پر ویڈیو کانفرنس کے ذریعے علما سے مشاورت کی.
کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے باجماعت نماز اور جمعے کے اجتماعات پر پابندی سے متعلق حتمی فیصلہ نہ ہو سکا.
مشاورتی اجلاس میں ملک بھر کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما شریک ہوئے.
وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری, چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز اور چاروں صوبوں کے گورنرز نے صدر پاکستان کی معاونت کی۔
صدر نے کہا کہ وبائی امراض سے بچنے کے لیے اسلام نے واضح ہدایات دی ہیں۔
انہوں نے علما سے کہا کہ عوام کے گھروں میں نماز ادا کرنے سے کرونا کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بیماری روکنے کا واحد طریقہ سماجی فاصلہ قائم رکھنا ہے۔ اس کے لیے عوام کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔
ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق علما نے یقین دلایا کہ کروانا وائرس کے حوالے سے حکومت کی ہدایات پر عمل کیا جائے گا.
اس سے قبل باجماعت نماز اور جمعے کے اجتماعات سے متعلق علما نے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا کہ مساجد کھلی رکھی جائیں گی تاہم باجماعت نماز اور جمعے کی نماز کے دورانیے کو کم کر دیا جائے گا۔
اس سے قبل پاکستان کے صدر نے مصر کی معروف دینی درس گاہ جامعۃ الازھر سے باجماعت نماز کے حوالے سے فتوی جاری کرنے کا کہا تھا۔
جس پر جامعۃ الازھر کی سپریم علما کونسل نے فتویٰ جاری کیا تھا کہ انسانی زندگیوں کے تحفظ اور وبا سے بچنے کے لیے باجماعت نماز اور نمازِ جمعہ کی ادائیگی گھروں پر کی جائے۔