رسائی کے لنکس

logo-print

لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کا 'امریکی خواب' خطرے میں


کرونا وائرس سے ہزاروں امریکی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن یہ وبا لاکھوں تارکین وطن کا امریکی خواب بھی قتل کرنے کے درپے ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ میں ڈھائی کروڑ سے زیادہ افراد بیروزگار ہوئے ہیں۔ ان میں لاکھوں تارکین وطن بھی شامل ہیں جو ورک ویزے پر امریکہ آئے۔ ان کے قیام کی شرط ان کی ملازمت تھی۔

مائیگریشن پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی سارہ پئیرس کہتی ہیں کہ ایچ ون بی ویزا کے تحت آپ اسی آجر کے لیے کام کر سکتے ہیں، جس کے لیے آپ کو ویزا ملا ہے۔ آپ اتنے ہی گھنٹے کام کرسکتے ہیں، جتنے کا وعدہ کیا ہے۔ اور اسی مقام پر کام کرسکتے ہیں، جس کا ذکر ہوا ہے۔ ان میں تبدیلیوں کے لیے نئی درخواست دائر کرنا پڑتی ہے جو موجودہ حالات میں مشکل کام ہے۔

اگر کوئی شخص ملازمت کھو بیٹھے تو اس کے پاس نئی ملازمت حاصل کرکے درخواست دائر کرنے کے لیے دو ماہ کا وقت ہوتا ہے۔ یہ معمول کے دنوں میں بھی آسان کام نہیں ہوتا۔ موجودہ بحران میں کون نئی ملازمت کی امید کرسکتا ہے۔

یہ مدت ختم ہونے کے بعد متاثرہ شخص کا قیام غیر قانونی ہوجاتا ہے۔ اس قیام کو جتنا عرصہ ہوتا جاتا ہے، امیگریشن سزا اتنی زیادہ ہوسکتی ہے۔ ایک سال ایسا قیام کرنے کے بعد امریکہ میں داخلے پر 10 سال کی پابندی لگ سکتی ہے۔

ایسی سزا سے بچنے کے لیے حکومت اور وکلا مشورہ دیتے ہیں کہ رضاکارانہ طور پر امریکہ سے چلے جانا چاہیے۔ لیکن اس بحران میں یہ بھی ممکن نہیں۔ بیشتر ملکوں نے سرحدیں بند کردی ہیں اور پروازیں دستیاب نہیں۔

بیروزگار ہوجانے والے امریکی شہری محکمہ محنت سے رجوع کرتے ہیں اور حکومت انھیں کچھ امداد فراہم کرتی ہے۔ لیکن غیر ملکی کارکن اس کی امید نہیں کرسکتے۔ امریکہ میں بیروزگار ہوجانے والے افراد میں انھیں شمار ہی نہیں کیا جاتا۔

امریکہ کی امیگریشن کا نظام ایسا ہے کہ اگر کسی شخص کا قریبی رشتے دار امریکی شہری نہ ہو تو اس کے پاس امیگریشن حاصل کرنے کا واحد طریقہ ورک ویزا رہ جاتا ہے۔ ویزا لاٹری بھی ایک ذریعہ ہے، لیکن بہت سے ملکوں کے شہری اس کے اہل نہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ ویسے ہی امیگریشن پالیسیاں سخت کرتی جارہی ہے، جس سے تارکین وطن کی امیدیں کم ہوئی ہیں۔ ہر سال غیر ملکی کارکنوں کے ویزے کم ہوتے جارہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ دنوں گرین کارڈ کا اجرا 60 دن کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، تاکہ غیر ملکی کارکنوں کو روک کر امریکی شہریوں کی ملازمتوں کا تحفظ کیا جاسکے۔

اس سے پہلے ملک بھر میں امیگریشن دفاتر میں وبا کی وجہ سے ذاتی طور پر پیش ہونا ممنوع قرار دے دیا تھا، جس سے ورک ویزا کے حامل غیر ملکی کارکنوں کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوا۔ لابنگ گروپس اور وکلا تنظیمیں ٹرمپ انتظامیہ کو خطوط لکھ کر اس مسئلے کی طرف توجہ دلا چکی ہیں۔ لیکن انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔ محکمہ امیگریشن نے بعض معاملات میں مہلت دی ہے، لیکن ایچ ون بی ویزا کے معاملے پر خاموشی اختیار کی ہے۔

کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، اس وقت ایچ ون بی ویزا اور گرین کارڈ کے درمیان 10 لاکھ افراد پھنسے ہوئے ہیں جن میں سب سے بڑی تعداد بھارتی شہریوں کی ہے۔ جس ملک کے کم شہری گرین کارڈ کی درخواست دیتے ہیں، ان کا نمبر جلدی آتا ہے۔ موجودہ بحران سے پہلے جس رفتار سے کیسز نمٹائے جارہے تھے، اس فہرست میں آخری نمبروں کے بھارتی شہریوں کا نمبر 50 سال بعد آںے کا امکان تھا۔ اب وہ امکان بھی معدوم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG