کیا ڈاک کھولنے سے کرونا وائرس لگ سکتا ہے
سانس کے ذریعے منتقل ہونے والا یہ مہلک وائرس کسی بھی چیز پر کئی دن تک زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی ایسی چیز کو چھوتا ہے، جس پر وائرس موجود ہو، تو وہ اس کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے اور جب وہ اپنے چہرے کو ہاتھ لگاتا ہے تو جراثیم سانس کے ذریعے جسم کے اندر چلا جاتا ہے۔
کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت اور اس کی ہلاکت خیزی کے باعث ہر شخص غیر معمولی احتیاط سے کام لے رہا ہے، اور خاص طور پر گھر سے باہر چیزوں کو چھونے سے اجتناب کر رہا ہے تاکہ یہ وائرس اسے منتقل نہ ہو۔
اکثر لوگوں کا یہ خدشہ بجا ہے کہ کرونا خط اور ڈاک کے پیکٹوں پر بھی موجود ہو سکتا ہے اور اسے چھونے سے منتقلی کا خطرہ ہے۔ جب کہ عالمی ادارہ صحت اور بیماریوں سے بچاؤ اور کنٹرول کے امریکی مراکز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابھی تک انہیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے، جس سے یہ پتا چلتا ہو کہ ڈاک کو چھونے سے یہ مہلک وائرس کسی انسان میں منتقل ہوا ہو۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ وائرس اس وقت پھیلتا ہے جب وہ متاثرہ شخص کے کھانسنے، چھینکنے اور لوگوں کے قریب سانس لینے یا اونچا بولنے سے منہ سے خارج ہونے والے آبی بخارات کے ذریعے فضا میں پھیل جاتا ہے اور جب کوئی دوسرا شخص وہاں سانس لیتا ہے تو وہ اس میں منتقل ہو جاتا یے۔
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ امکان بہت ہی کم ہے کہ کوویڈ 19 خطوں یا ڈاک کے پیکٹوں پر لمبے عرصے تک برقرار رہ سکتا ہیے اور جو کوئی انہیں چھوئے گا، اس میں منتقل ہو جائے گا۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ سب سے بہتر یہی ہے کہ ڈاک کو چھونے اور کھولنے کے دوران اپنے چہرے کو ہاتھ نہ لگائیں اور جب آپ خط اور ڈاک کے پیکٹ کھول لیں تو اپنے ہاتھ صابن سے اچھی طرح دھو لیں۔
طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ وبا کے دنوں میں آپ دن میں کئی بار صابن سے کم ازکم 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھونا اپنا معمول بنا لیں۔ کیونکہ اس وقت مہلک وائرس سے محفوظ رہنے کا یہی آسان اور مؤثر طریقہ ہے۔
دوسرے کاروباری اداروں کی طرح امریکہ کی پوسٹل سروس نے بھی اپنے دفاتر میں لوگوں کی آمد و رفت محدود کر دی ہے اور لوگوں سے کہا ہے کہ وہ پوسٹ آفس میں آتے وقت ایک دوسرے سے کم از کم 6 فٹ کا فاصلہ قائم رکھیں
مشرق وسطی کے متعدد ملکوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی
قاہرہ سے وائس آف امریکہ کے نامہ نگار ایڈورڈ یارنیان نے اطلاع دی ہے کہ مصر، لبنان، تیونس اور ایران نے کاروباروں کو جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف الجزائر نے غیر محفوظ اجتماعات کو دیکھتے ہوئے بعض کاروباروں کو دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان میں سب سے زیادہ مصر اپنے سیاحت کے شعبے کی بندش سے متفکر تھا۔ سیاحت کے وزیر خالد ال عنانی نے اتوار کو عرب میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کھولنے کا عمل بتدریج ہو گا۔ پہلے اندون ملک سیاحت کے لیے ہوٹلوں کو کھولا جائے گا۔ بعد میں بین الاقوامی سیاحت کے لیے بڑے ہوٹلوں کو کھول دیا جائے گا۔ ان تمام ہوٹلوں پر لازم ہو گا کہ وہ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات پر عمل کریں۔
لبنان میں بھی پیر کے روز سے ریستورانوں اور کیفے کھولنے کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے۔ انہیں صرف 30 فی صد گاہکوں کو بٹھانے کی اجازت ہو گی، بیچیز اور ساحل سمندر کی تفریح گاہوں کو بھی کھول دیا گیا ہے۔
اتوار کو ایران کے صدر حسن روحانی نے اشارہ دیا کہ ان کا ملک بھی کاروبار زندگی کو بتدریج کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں کہا اس ہفتے بعض علاقوں میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت ہو گی۔
صدر روحانی نے کہا کہ اس کے علاوہ آہستہ آہستہ کچھ اور شعبے کھلیں گے، تاہم یہ خیال رکھا جائے گا کہ یہ وبا ہمارے ملک میں موجود ہے اور اس لیے مناسب احتیاط جاری رہے گی۔
تیونس میں سرکاری ادارے، پبلک ٹرانسپورٹ اور تعمیری کاموں کو کھولا جا رہا ہے۔ تاہم الجزائر کی حکومت نے غیر محفوظ اجتمعات کو دیکھتے ہوئے کھولے گئے کئی کاروبار دوبارہ بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
نیوزی لینڈ: پیر کے روز کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا
نیوزی لینڈ نے لاک ڈاؤن کے ضابطوں میں نرمی شروع کر دی ہے اور اس ساتھ ہی اس ملک کے لیے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ وہاں پیر کے روز کسی شخص میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔
محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ایشلے بلوم فیلڈ نے اس خبر پر محتاط انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ واضح طور پر یہ حوصلہ افزا بات ہے، مگر یہ ابھی ایک لمحہ ہے، جہاں ہم رکے ہیں۔ اصل امتحان اس ہفتے کے دوران ہو گا، کیوں کہ وائرس کے فعال ہونے کا عرصہ پانچ چھ دن ہوتا ہے۔
نیوزی لینڈ نے مہلک وائرس پر قابو پانے کے سلسلے میں شروع سے ہی کامیابی دکھائی تھی۔ اس ملک میں کرونا کے تقریباً ڈیڑھ ہزار مصدقہ کیس ہوئے اور 20 افراد ہلاک ہوئے۔ مگر نیوزی لینڈ کی حکومت نے شروع دن سے خاصی احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔ سکول، دکانیں اور ریستوران بند کر دیے گئے تھے۔
اٹلی میں بھی صورت حال بہتر ہوئی ہے اور پیر سے کاروبار زندگی جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔ لوگوں کو اپنے قریبی رشتہ داروں سے ملنے کی اجازت دے گئی ہے۔
آج اٹلی شہر میلان میں لوگوں نے کاروبار کھولنے کے حق میں مظاہرے کیے۔ یورپ کا یہ ملک اس وائرس کی سخت لپیٹ میں آیا تھا، سوا دو لاکھ کے قریب کیسز ریکارڈ ہوئے جب کہ 29 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو ئے۔
سپین میں پیر سے پبلک ٹرانسپورٹ چلنا شروع ہو گئی ہے، تاہم ماسک پہننے کی پابندی قائم ہے۔
ملائیشیا میں بھی آہستہ آہستہ کاروبار کھولتا جا رہا ہے۔ سرکاری طور پر لاک ڈاؤن کی مدت 12 مئی کو ختم ہو گی۔ ملائیشیا کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں کرونا وائرس کی روک تھام کرنے کے ساتھ ساتھ اقصادی سرگرمیوں کو بھی کسی سطح پر جاری رکھا گیا۔
میکسکو سٹی میں کرونا کے علاج کے سلسلے میں اضافی اقدامات کیے گئے ہیں۔
جاپان نے ہنگامی حالات کی مدت میں توسیع کر دی ہے اور اب یہ اس ماہ کے آخر تک جاری رہیں گے۔
روس میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد اچانک بڑھ گئی ہے۔ دوسرے دن بھی 10 ہزار سے زیادہ نئے کیسیز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس طرح روس میں ایک لاکھ 45 ہزار کیسز سامنے آ چکے ہیں، جب کہ ایک ہزار تین سو پچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
کرونا وائرس کے انسداد کے سلسلے میں اس وقت ساری دنیا کی توجہ ویکسین کی تلاش پر مرکوز ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت 90 کے قریب ادارے مختلف ویکسینز پر تجربات کر رہے ہیں۔ صحت کے حکام کا اندازہ ہے کہ اس عمل میں ایک سے ڈیڑھ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
- By علی فرقان
پاکستان میں ایک کروڑ 80 لاکھ افراد کے بے روز گار ہونے کا اندیشہ
پاکستان کے منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے ملک میں معاشی بندشیں کرونا وائرس سے زیادہ مہلک ہیں۔ اس کے باعث ایک کروڑ 80 لاکھ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔
کرونا وائرس کے حوالے سے قائم قومی رابطہ کمیٹی کے سربراہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں روزگار میں بڑے پیمانے پر کمی آئی ہے۔ ملک بھر میں 10 لاکھ چھوٹے ادارے بند ہوچکے ہیں۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ معاشی بندشوں سے غربت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق معاشی بندشوں کی وجہ سے بھوک اور غربت کے چیلنجز مزید بڑھیں گے۔
وزیر منصوبہ بندی نے بتایا کہ اپریل میں محصولات میں 119 ارب روپے کی کمی ہوئی جب کہ انہی محصولات سے ہمیں نظام کو چلانا اور غربت کم کرنی ہے۔
تجزیہ کار و معاشی محقق علی خضر کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے باعث معیشت اور عوام پر اس کے منفی اثرات واضع ہو رہے ہیں تاہم ان کا حتمی اندازہ لگانا اسی وقت ممکن ہوسکے گا جب وبا کے خاتمے کی مدت کو تعین ہوسکے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بات کا بھی اندازہ نہیں ہے کہ اگر حکومت لاک ڈاؤن ختم کرتی ہے تو بے روزگار ہونے والے افراد میں سے کتنوں کا روزگار بحال ہوسکے گا کیوں کہ بہت سے اداروں اور صنعتی یونٹس کو بحال ہونے میں طویل عرصہ درکار ہوگا۔
خیال رہے کہ ملک میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ 470 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
گزشتہ ہفتے سے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور چھ دنوں میں روزانہ اوسطاً 24 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہمیں امریکہ اور دوسرے ممالک کو نہیں اپنے حالات کو دیکھ کر فیصلے کرنا ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ 9 مئی کے بعد سے کاروباری سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے قومی رابطہ کمیٹی غور کر رہی اور اس ضمن میں صورت حال وفاقی کابینہ کے سامنے رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان آئندہ دو روز میں کابینہ اجلاس بلا کر اس حوالے سے فیصلے کریں گے۔
معاشی تجزیہ کار علی خضر کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن جاری رکھنے یا کاروبار کو کھولنے کا فیصلہ آسان نہیں ہے اور اس حوالے سے فیصلہ سازی اور بیانیے میں ابہام دکھائی دیتا ہے۔