کرونا وائرس: 40 لاکھ کیسز، پونے 3 لاکھ اموات
دنیا بھر میں کرونا وائرس کیسز کی تعداد جمعہ کو 4 ملین یعنی 40 لاکھ تک پہنچ گئی جبکہ ہلاکتیں بھی 2 لاکھ 75 ہزار کا ہندسہ عبور کرگئی ہیں۔ ان میں 13 لاکھ کیسز امریکہ کے ہیں جہاں 78 ہزار اموات ہوچکی ہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق اب تک 212 ملک اور خود مختار خطے عالمگیر وبا کی زد میں آچکے ہیں۔ محض چند کم آبادی والے ملکوں اور جزیروں میں اس وائرس کا خاتمہ کیا جاسکا ہے۔
24 گھنٹوں کے دوران برطانیہ میں 626، برازیل میں 449، میکسیکو میں 257، فرانس میں 243، اٹلی میں بھی 243، اسپین میں 229، کینیڈا میں 159، سویڈن میں 135 اور بیلجیم میں 106 مریض چل بسے۔
امریکہ میں جمعہ کی شام تک 1300 سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔ ملک میں کرونا وائرس کے 85 لاکھ ٹیسٹ ہوچکے ہیں جن میں 13 لاکھ سے زیادہ مثبت آئے ہیں۔ 15 امریکی ریاستوں میں ایک ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن میں نیویارک 26581 اموات کے ساتھ سرفہرست ہے۔
برطانیہ میں 31 ہزار، اٹلی میں 30 ہزار اور اسپین اور فرانس میں 26 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ برازیل میں کئی دنوں سے مسلسل چار پانچ سو ہلاکتیں ہورہی ہیں اور مجموعی اموات ساڑھے 9 ہزار تک پہنچ چکی تھیں۔
وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 13 لاکھ 75 ہزار ہوچکی ہے۔ ان میں امریکہ کے 2 لاکھ 21 ہزار، اسپین کے ایک لاکھ 68 ہزار، جرمنی کے ایک لاکھ 41 ہزار اور ایران کے 99 ہزار شہری شامل ہیں۔
کیا کرونا وائرس موسمیاتی پیش گوئی پر اثرانداز ہورہا ہے؟
عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے مطابق، ہوائی پروازیں بروقت معلومات فراہم کرکے موسمی پیشنگوئی میں اہم کرتی ہیں، جبکہ کرونا وائرس کی وبا کے پھیلنے سے ہوائی سفر میں دنیا بھر میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ اور یوں، فضا سے درجہ حرارت، ہوا اور نمی سے متعلق ڈیٹا، جو کہ موسمی تبدیلیوں کی بروقت پیشنگوئی میں بہت مددگار ہوتا ہے، موصول نہیں ہو رہا۔
دنیا بھر سے کمرشل پروازوں کے ذریعے ایک مخصوص پروگرام کے تحت ہر روز آٹھ لاکھ کے قریب ہوا کی سمت، رفتار اور فضا کے درجہ حرارت سے متعلق اطلاعات حاصل ہوتی ہیں۔
فضائی معلومات جہازوں پر لگے سینسرز، کمپیوٹر اور مواصلاتی نظام سے حاصل کی جاتی ہے۔ عالمی موسمیاتی ادارے کے سیکرٹری جنرل، بیٹری ٹالاس کہتے ہیں کہ ادارہ اپنی انتہائی ضروری خدمات 24 گھنٹے 7 دن انجام دے رہا ہے۔ لیکن کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک میں موسم کے متعلق اپنے فرائض انجام دینے میں خاص طور پر دشواریاں درپیش ہیں۔
کچھ خطوں میں ان اطلاعات کے ملنے میں 75 سے 80 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ نصف کرہ جنوبی میں معلومات کے حصول میں 90 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔
تاہم، جہازوں سے ملنے والی اطلاعات موسمی ماہرین کے لیے بہت سے ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ ہیں۔ دوسرے ذرائع میں خلا میں بھیجے گئے سیارے اور زمین پر نصب ریڈار شامل ہیں۔
- By آفتاب بوڑکا
'ٹیکسٹائل اور فیشن سے وابستہ مصنوعات کی پیداوار رک گئی ہے'
الکرم ٹیکسٹائل گروپ کے سربراہ، عابد عمر نے کہا ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے پاکستانی برآمدات کافی متاثر ہو رہی ہیں، جس کے اثرات پاکستان کی معیشت پر مرتب ہوں گے۔
الکرم ٹیکسٹایل گروپ میں تقریباً 15000 افراد کام کرتے ہیں، جو لاک ڈائون کی وجہ سےبند پڑا ہے۔
جمعے کے روز وائس آف امریکہ کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے، عابد عمر نے بتایا کہ کرونا کی وبا اور لاک ڈائون کے نتیجے میں برآمدات میں سرگرم کردار ادا کرنے والا فیشن سے وابستہ کاروبار کافی متاثر ہوا ہے۔ برآمدات میں پچھلے سال کے مطابق پچاس فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے جو کافی پریشان کن صورت حال ہے۔
انھوں نے کہا کہ 21 مارچ سےملکی کی زیادہ تر صنعتیں پورے طور پر کام نہیں کر پارہی ہیں یا مکمل طور پر بند پڑی ہیں۔
الکرم ٹیکسٹائل کے100 ریٹیل اسٹور ہیں، جو سارے کے سارے بند پڑے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اون لان کا کام کافی اچھا چل رہا تھا، چونکہ کرونا وائرس کے بعد لوگوں کا رجحان اون لان کی شوپنگ کی جانب مائل نظر آتا تھا۔
کرونا وائرس کہاں سے شروع ہوا؟
تیزی سے پھیلنے والے ہلاکت خیز کرونا وائرس سے سب سے زیادہ جانی اور معاشی نقصان اٹھانے والا ملک امریکہ ہے، جسے دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی کساد بازاری کا خدشہ ہے۔ صدر ٹرمپ وائرس سے پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار چین کو ٹھہراتے ہوئے، کہہ چکے ہیں کہ اسے یہ قیمت چکانا ہو گی۔
چین پر دو طرح کے الزام لگائے جاتے ہیں۔ اول یہ کہ اس نے دنیا کو بر وقت وائرس کے پھیلاؤ سے آگاہ نہیں کیا اور دوسرا یہ کہ کرونا چینی شہر ووہان میں واقع اس لیبارٹری سے نکلا جہاں وائرسوں پر تحقیق کی جاتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے حال ہی میں کہا ہے کہ امریکہ کے پاس یہ شواہد موجود ہیں، جو اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ وائرس ووہان کی وائرالوجی لیباٹری سے برآمد ہوا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ وائرس جان بوجھ کر پھیلایا گیا یا بدانتظامی کے سبب وہاں سے لیک ہوا، کیونکہ ان کے بقول، چین میں لیبارٹریوں کی سیکیورٹی کے فول پروف ہونے پر سوالات موجود ہیں۔
دوسری جانب چین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس ایک امریکی فوجی خاتون ووہان لے کر آئی تھی جو وسط اکتوبر میں ووہان میں عالمی فوجی کھلیوں میں شرکت کرنے والے تین سو امریکی فوجیوں کے دستے میں شامل تھی۔ اس میں بعدازاں پازیٹو ٹیسٹ رپورٹ ہوا تھا۔ چینی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے علاقے میں وائرس پھیلنا شروع ہوا۔ امریکہ اس کی تردید کرتا ہے۔