رسائی کے لنکس

logo-print

کیا کرونا وائرس موسمی پیش گوئی پر اثر انداز ہو رہا ہے؟


میامی (فائل)

اس خبر کی سرخی شاید آپ کے لیے کچھ حیران کن ہو، لیکن اس کی وضاحت کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے مطابق، ہوائی پروازیں بروقت معلومات فراہم کر کے موسمی پیش گوئی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جب کہ کرونا وائرس کی وبا کے پھیلنے سے ہوائی سفر میں دنیا بھر میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

یوں، فضا سے درجہ حرارت، ہوا اور نمی سے متعلق ڈیٹا، جو کہ موسمی تبدیلیوں کی بروقت پیش گوئی میں بہت مددگار ہوتا ہے، موصول نہیں ہو رہا۔

دنیا بھر سے کمرشل پروازوں کے ذریعے ایک مخصوص پروگرام کے تحت ہر روز آٹھ لاکھ کے قریب ہوا کی سمت، رفتار اور فضا کے درجہ حرارت سے متعلق اطلاعات حاصل ہوتی ہیں۔

فضائی معلومات جہازوں پر لگے سینسرز، کمپیوٹر اور مواصلاتی نظام سے حاصل کی جاتی ہے۔ عالمی موسمیاتی ادارے کے سیکرٹری جنرل، بیٹری ٹالاس کہتے ہیں کہ ادارہ اپنی انتہائی ضروری خدمات 24 گھنٹے 7 دن انجام دے رہا ہے۔ لیکن کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک میں موسم کے متعلق اپنے فرائض انجام دینے میں خاص طور پر دشواریاں درپیش ہیں۔

کچھ خطوں میں ان اطلاعات کے ملنے میں 75 سے 80 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ نصف کرہ جنوبی میں معلومات کے حصول میں 90 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔

تاہم، جہازوں سے ملنے والی اطلاعات موسمی ماہرین کے لیے بہت سے ذرائع میں سے ایک اہم ذریعہ ہیں۔ دوسرے ذرائع میں خلا میں بھیجے گئے سیارے اور زمین پر نصب ریڈار شامل ہیں۔

فضائی معلومات کی اس کمی کو دور کرنے کے لئے، کچھ ترقی یافتہ ممالک اور اداروں نے اقدامات کیے ہیں۔ مثال کے طور پر یورپی موسمی نیٹ ورک کے زیر اہتمام یورپ کے ممالک میں غباروں پر نصب کیے گئے آلات سے فضا میں بیس سے تیس 30 کلومیٹر کی بلندی تک کی معلومات حاصل کی جا رہی ہے؛ جبکہ دوسری جانب موسمی ادارے سیاروں اور فضا کے مواصلات کی ماہر کمپنی فلائٹ سے ایمرجنسی کے ان حالات میں ڈیٹا حاصل کر رہے ہیں، تاکہ موسمی تغیرات سے متعلق بروقت اور صحیح پیشن گوئی کی جاسکے۔

لیکن، دنیا کے بہت سے ترقی پذیر ملک اور خطے ابھی بھی جدیدترین ٹیکنالوجی استعمال نہیں کرتے اور وہاں روایتی مشاہدوں کی بنا پر موسمی پیشنگوئیاں کی جاتی ہیں۔

ڈبلیو ایم او کے زمینی نظام کے ڈائریکٹر لراس پیٹر رشوگارد کہتے ہیں کہ آج کل کی لاک ڈاؤن کی صورتحال میں انسانی روابط پر مبنی اس روایتی طریقہ کار کے صحیح طور پر کام سرانجام دینے میں مشکلات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خاص طور پر براعظم افریقہ اور وسطی اور جنوبی امریکہ کے کچھ حصوں میں سطحی دباؤ کے متعلق اطلاعات اکٹھی کرنے میں بہت کمی آئی ہے۔

ان حالات میں سمندر سے مشاہدہ کرنے والے نظام اہم اطلاعات کا ذریعہ ہیں اور ڈبلیو ایم او ان اطلاعات کی نگرانی بھی کر رہا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ فی الحال جدید ترین خودکار نظام اطلاعات کی بروقت فراہمی کر رہے ہیں اور کئی ماہ تک کرتے رہیں گے۔ تاہم، کچھ عرصے کے بعد ان نظاموں کو فعال رکھنے کے لیے انکی سروس کرنا ضروری ہوتا ہے۔

عالمی موسمیاتی ادارے کے مطابق، کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی ایمرجنسی کے ان حالات میں خلائی ذرائع سے موسم کے متعلق حاصل ہونے والی اطلاعات کی اہمیت کہیں بڑھ گئی ہے۔ اس وقت 30 موسمی اور 200 تحقیقی سیارے مسلسل اطلاعات باہم پہنچا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ زمین پر قائم 10000 موسمی اسٹیشن 1000 فضا کے اسٹیشن، سات ہزار بحری جہاز، 1000 تیرتی ہوئی اور 100 ساکن بوائے تنصیبات، سینکڑوں ریڈار اور 3000 مخصوص کمرشل ہوائی جہاز سمندر اور فضا میں ہونے والے تغیرات کی اطلاعات فراہم کر رہے ہیں۔

امریکہ میں ہوائی سفر میں کمی کی وجہ سے اطلاعات اکٹھا کرنے میں 75 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم، امریکہ کے سمندری اور فضائی ادارے (این او اے اے) کے ترجمان، کرسٹوفر وے کارو کے مطابق، اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس سے ان کے ادارے کے صحیح پیشنگوئی کرنے میں خلل پڑا ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کے موسمی ادارے پیشین گوئی کرتے وقت تمام تر سہولیات کو بروئے کار لاتے ہوئے ان اطلاعات کا استعمال کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG