وائرس کے اثرات وائٹ ہاؤس تک پہنچ چکے ہیں
وائٹ ہاؤس کے دو اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان میں سے ایک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاون جب کہ دوسرے نائب صدر مائیک پینس کی پریس سیکریٹری ہیں۔
نائب صدر مائیک پینس کے ترجمان ڈیون اومیلی کا کہنا ہے کہ مائیک پینس کا بھی کرونا ٹیسٹ کیا گیا ہے جو منفی آیا ہے۔ وہ آج سے اپنے فرائض دوبارہ سنبھال چکے ہیں۔
ان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ نائب صدر پینس قرنطینہ میں نہیں ہیں تاہم وہ وائٹ ہاؤس کے میڈیکل یونٹ کی تجاویز پر پوری طرح عمل کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ ترین طبی مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا ٹیسٹ بھی منفی آیا ہے۔ تاہم انہوں نے سیلف آئی سولیشن میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
- By علی فرقان
'ڈاکٹرز نے سختی سے منع کیا ہے کہ شہباز شریف قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت نہ کریں'
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پارٹی نے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روک دیا ہے۔
مریم اورنگزیب کے مطابق پارٹی نے یہ فیصلہ شہباز شریف کے ڈاکٹرز کی تحریری رائے کی تائید کرتے ہوئے کیا ہے۔ ڈاکٹرز نے سختی سے منع کیا ہے کہ شہباز شریف قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت نہ کریں۔
مسلم کی ترجمان کجے مطابق ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کینسر سرجری اور قوت مدافعت میں کمی سے ان کی صحت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہباز شریف نے قومی اسمبلی اجلاس کے لیے حکمت عملی کی منظوری دے دی ہے۔
- By علی فرقان
قومی اسمبلی کا اجلاس شروع، کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے اقدامات پر بحث ہو گی
قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کی صدارت میں شروع ہو گیا ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس کے آغاز پر کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
خیال رہے کہ اجلاس میں کرونا وائرس کو کنٹرول کرنے کے حکومت کے اقدامات پر بحث ہو گی۔
کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سمیت تمام ارکان سمیت متاثرہ مریضوں کی صحت یابی کے لیے بھی اجلاس میں دعا کی گئی۔
بلوچستان میں کاروباری سرگرمیاں بحال، احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کیا جا رہا
بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پیر کو لاک ڈاﺅن میں نرمی کے تیسرے روز تمام کاروباری مراکز، دکانیں اور مارکیٹیں کھل گئی ہیں تاہم ماضی کی طرح رمضان کے دنوں میں نظر آنے والا رش کہیں بھی نہیں ہے۔
تاجر بازاروں میں رش نہ ہونے کی وجہ گزشتہ دو ماہ سے جاری لاک ڈاﺅن کے باعث لوگوں کے پاس پیسہ نہ ہونا بتا رہے ہیں۔
شہر کی کسی بھی دُکان میں حکومت کی طرف سے بتائی گئی ہدایات کو اہمیت نہیں دی جا رہی۔
حکومت نے ماسک پہننا، دُکان کے سامنے چھ فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہونا، دکان میں ایک ہی وقت میں چار سے زائد افراد کا نہ ہونا اور سینی ٹائزر کا استعمال وغیرہ لازمی قرار دیا ہے تاہم ان ہدایات پر کہیں بھی عمل نہیں ہو رہا۔
اتوار کی شام صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ اور مرکزی انجمن تاجران کے رہنماﺅں کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔ جس میں تاجروں پر صوبائی وزیر سلیم کھوسہ نے یہ بات واضح کی تھی کہ دکان داروں نے اگر طے شدہ شرائط پر عمل نہ کیا تو دوبارہ سخت لاک ڈاﺅن نافذ کر دیا جائے گا۔