کرونا وائرس کی نئی مؤثر دوا، ریمڈیسیویئر
طبی ماہرین کو توقع ہے کہ وائرس کے خلاف پہلے سے موجود ایک دوا کرونا انفکشن کی شدت کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس دوا کا نام ریمڈیسیویئر ہے۔ سائنس دانوں کا ایک گروپ اسے پانسہ پلٹنے والی دوا کے طور پر دیکھ رہا ہے جب کہ کئی دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک عارضی سہارا ہے اور مؤثر دوا کی تلاش جاری رہنی چاہیے۔
اب تک کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ریمڈیسیویئر سے مرض کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے۔ مگر یہ دوا اس لیے بڑے پیمانے پر استعمال نہیں کی جا سکتی, کیونکہ فی الحال یہ صرف اسپتال میں ڈاکٹر کی نگرانی میں دی جا سکتی ہے۔
یونیورسٹی آف ایریزونا کالج آف میڈسن فونکس کے ایک کارڈیالوجسٹ اور پیتھالوجسٹ، ڈاکٹر ریمنڈ ووزلی کہتے ہیں کہ اس وقت ہر کسی کو یہ دوا نہیں مل سکتی، کیونکہ اس کی فراہمی بہت محدود ہے۔
محدود سپلائی کی وجہ سے امریکہ کی وفاقی حکومت نے یہ دوا 13 ریاستوں کے ان اسپتالوں کو فراہم کی ہے جہاں کوویڈ 19 کے مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس پر تجربات جاری رکھیں اور اس کے نتائج کا تبادلہ کریں۔
کرونا وائرس کے ایک تہائی مریضوں کے گردے خراب ہوجاتے ہیں
نیویارک کے طبی ماہرین نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کیسز پر تحقیق سے انھیں معلوم ہوا ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ مریضوں کے گردے خراب ہوجاتے ہیں اور 15 فیصد کو ڈائیلیسس کی ضرورت پڑجاتی ہے۔
یہ تحقیق ریاست نیویارک میں صحت کی سہولتیں فراہم کرنے والے سب سے بڑے نیٹ ورک، نارتھ ویل ہیلتھ کے ماہرین نے کی ہے۔ اس میں ہزاروں مریضوں کے میڈیکل ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس کے نتائج طبی جریدے کڈنی انٹرنیشنل میں شائع ہوئے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ لکھنے والوں میں شامل ڈاکٹر کینار جھویری شامل ہیں جو ہوفسٹرا نارتھ ویل، گریٹ نیک میں نیفرولوجی کے معاون سربراہ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 36٫6 فیصد مریضوں کے گردوں میں اس قدر خرابی پیدا ہوئی کہ وہ کام کرنے اور جسم سے فضلہ خارج کرنے کے قابل نہیں رہے۔ ان میں سے 14٫3 فیصد مریضوں کو گردوں کی صفائی کے لیے ڈائیلیسس کی ضرورت پڑی۔
یہ کرونا وائرس کے مریضوں میں گردے کے مسائل پر اب تک کی سب سے بڑی تحقیق ہے۔ ڈاکٹر جھویری نے کہا کہ چونکہ دوسرے اسپتالوں کو بھی کیسز کی نئی لہر کا سامنا ہے اس لیے وہ ان کی تحقیق سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
امریکہ میں مزید 30 لاکھ افراد بیروزگار، کل تعداد پونے 4 کروڑ
امریکہ میں کرونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت کا زوال جاری ہے اور محکمہ محنت نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے ملک بھر میں مزید 29 لاکھ 81 ہزار افراد بیروزگار ہوگئے ہیں۔ اس طرح دو ماہ میں ذریعہ آمدن سے محروم ہوجانے والوں کی تعداد 3 کروڑ 65 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے مارچ کے وسط میں ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد پہلے ہفتے میں 33 لاکھ، دوسرے میں 69 لاکھ، تیسرے میں 66 لاکھ، چوتھے میں 52 لاکھ، پانچویں میں 44 لاکھ، چھٹے ہفتے میں 38 لاکھ اور ساتویں ہفتے میں 32 لاکھ شہری بے روزگار ہوئے تھے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس بحران میں مزید کم از کم ایک کروڑ افراد کی آمدنی کے ذرائع ختم ہوئے ہیں۔ لیکن، یا تو وہ بیروزگاری الاؤنس کے اہل نہیں یا ان کے پاس قانونی دستاویزات نہیں۔
محکمہ محنت کے اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ تمام ریاستوں میں یکساں انداز سے بیروزگاری بڑھی ہے اور ان ریاستوں میں بھی کمی نہیں آئی جہاں کاروبار کھلنا شروع ہوگئے ہیں۔ کنیٹی کٹ میں گزشتہ ہفتے تین لاکھ افراد کا روزگار ختم ہوا۔ جارجیا میں یہ تعداد 2 لاکھ 41 ہزار اور فلوریڈا میں 2 لاکھ 21 ہزار رہی۔
کانگریس معیشت کو سہارا دینے کے لیے تین مالیاتی پیکج منظور کر چکی ہے اور ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس جمعہ کو تین ہزار ارب ڈالر کا ایک اور پیکج پیش کرنے والے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ری پبلکنز اس کے بجائے چاہتے ہیں کہ معیشت کو کھول دیا جائے۔
لیکن، عالمی ادارہ صحت اور صحت عامہ کے ماہرین بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ کاروبار کھولنے میں جلدی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ پیر کو امریکی سینیٹ کی کمیٹی میں سماعت کے دوران انتھونی فاؤچی سمیت وائٹ ہاؤس ٹاسک فورس کے ارکان نے اس انتباہ کو دوہرایا تھا۔
حکومتی 'ایس او پیز' پر عمل درآمد، ایک جائزہ
پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کیا گیا۔ لیکن، معاشی حالات کے پیش نظر حکومت کو لاک ڈاؤن میں نرمی کرنا پڑ رہی ہے؛ اور حکومت مختلف ایس او پیز کے ذریعے حالات پر قابو پانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس وقت کون کون سے سی 'ایس او پیز' حکومت نے جاری کیں اور ان پر عمل درآمد کس حد تک ہو رہا ہے؟
اس کا جائزہ لیتے ہیں:
مساجد اور مدارس کی ایس او پیز
مساجد اور مذہبی مقامات وہ مرحلہ ہے جہاں حکومت کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، حکومت مذہبی عناصر سے مزاحمت کے خطرہ کے باعث ان تمام معاملات کو افہام و تفہیم سے ٹھیک کرنا چاہتی تھی. لیکن, اس کے باوجود تمام مذاکرات ہونے کے بعد بھی بعض علما کی طرف سے معاہدوں کی خلاف ورزیاں کی گئیں. لیکن, حکومت صرف اعلانات ہی کرتی رہی اور اب بھی بعض مقامات پر ایس او پیز کی خلاف ورزیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔